خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 369

خطبات محمود 370 * 1941 جماعت کو روکتے ہیں کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ یہ مضمون لکھنے والے متفرق مقامات کے رہنے والے ہیں۔لاہور اور ملک کے دوسرے شہروں کے ہیں۔صرف قادیان کے ہی نہیں کہ کہا جا سکے علماء کو خاص طور پر پڑھائے جاتے ہیں۔یہ لوگ مختلف جگہوں کے رہنے والے ہیں۔اس لئے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب علماء کے طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ابھی ایک بچہ ان کے رد میں مضامین لکھ رہا ہے جس کا نام خورشید احمد حملہ ہے اور اس وقت لاہور میں رہتا ہے۔اس کے مضمون ایسے اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ کوئی بڑی عمر کا آدمی ہے مگر بعد میں معلوم ہوا ہے کہ خان صاحب مولوی فرزند علی خان صاحب کا نواسہ ہے۔اور 18،17 سال عمر ہے۔وہ ان لوگوں کی کتابیں اور اخبار پڑھتا ہی ہے تو ان کا رڈ ہے ورنہ کیسے لکھ سکتا؟ اور ہم نے اسے ان کے پڑھنے سے کبھی نہیں روکا اور کبھی نہیں کہا کہ تم ابھی بچے ہو ان کی کتابیں نہ پڑھا کرو ایسا نہ ہو ابتلاء آ جائے۔لکھتا اور نہ ہی کسی اور کو روکتے ہیں۔مولوی صاحب کو یونہی یہ وہم ہے۔مولوی محمد علی صاحب کی عادت ہے کہ خود تو کسی کی بات کو نہیں مانتے اور جو بات وہ خود پیش کریں اسے اگر کوئی نہ مانے تو اسے مجرم قرار دیتے ہیں۔پس ان کی تجویز کے جواب میں سب سے پہلی بات تو میں یہ کہتا ہوں کہ پہلے وہ ان دونوں تجاویز کو تو مانیں جو ہماری طرف سے پہلے پیش ہو چکی ہیں۔ان کی تجویز کا منشاء یہی ہے اور یہی سوال انہوں نے اٹھایا ہے کہ ان کے اور ہمارے عقائد اور دلائل اکٹھے لوگوں تک پہنچیں اور سب سے پہلے میں نے جو تجویز پیش کی تھی اس میں بھی یہی سوال تھا کہ ان کے مضامین ان کے الفاظ میں اور میرے مضامین میرے الفاظ میں لوگوں تک پہنچیں اور جب دونوں تجاویز کا مقصد وہی ہے تو اس کا کیا مطلب کہ وہ تو ہماری تجویز کو رڈ کر دیں اور ہم ان کی مانیں۔اس بات کا مطلب سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ جو کچھ وہ کہیں وہی شیخ خورشید احمد صاحب نائب ایڈیٹر الفضل امراد ہیں۔