خطبات محمود (جلد 22) — Page 345
* 1941 346 خطبات محمود تو اشتعال میں کمی آ جائے گی اور اگر بیٹھنے سے کمی نہ ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جوش اتنا زیادہ ہے کہ بیٹھنے سے بھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔اس صورت میں آپ نے جانے کی ہدایت فرمائی ہے۔لیکن اگر اس سے بھی آرام نہ ہو تو ٹھنڈا پانی پی لینے سے حالت درست ہو جائے گی کیونکہ اس سے معدہ سرد ہو جائے گا اور چاروں طرف سے خون اسے گرم کرنے کے لئے جمع ہو جائے گا اور اس طرح اشتعال میں کمی ہو جائے گی۔طبی طور پر بھی یہ نہایت لطیف بات ہے جس سے خون کی حدت دور ہو جاتی ہے ا جاتی ہے اور علم النفس کی رو سے بھی یہ بہت عجیب بات ہے کیونکہ وقت اور حالت کی تبدیلی سے ان جذبات کا قبضہ کمزور ہو جاتا ہے جو پہلی حالت کے لئے ذمہ دار ہوتے ہیں۔بعض لوگ جب کسی خاص مقام پر پہنچتے ہیں تو کوئی دوست یاد آ جاتا ہے مگر وہاں سے چلے جائیں تو وہ یاد بھی بھول جاتی ہے۔اسی طرح اگر کسی کو کسی مقام پر کوئی گالی دے اور وہ حالت کو تبدیل کرے یعنی اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، بیٹھا ہو تو لیٹ جائے تو حالت کی اس تبدیلی کے ساتھ ہی اس کی دماغی کیفیات میں بھی تغیر پیدا جائے گا اور اشتعال میں کمی آجائے گی۔قرآن کریم نے اس بات کو اور بھی لطیف رنگ میں بیان فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ اس جگہ سے ہٹ جاؤ جہاں گالیاں دی جاتی ہیں۔یہ اشتعال کو دور کرنے کا انتہائی نسخہ ہے جو قرآن کریم نے بتایا ہے یعنی اگر کھڑے ہونے کی حالت میں بیٹھنے سے اور بیٹھنے کی حالت میں لیٹنے سے آرام نہیں ہوتا تو اس مجلس سے ہی چلے جاؤ۔جگہ کی تبدیلی سے دماغی کیفیت میں بہت بڑا تغیر ہو جاتا ہے اس سے ایک تو وہ شخص سامنے نہیں رہتا جس پر غصہ آ رہا ہو۔دوسرے وہ نظارہ بھی سامنے نہیں رہتا۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یوں تو انسان کی طبیعت میں غصہ پیدا نہیں ہوتا۔ایک شخص اسے گالی دے رہا ہے مگر یہ اسے بیوقوف سمجھ کر ہنس دیتا ہے ہے لیکن معا اس کی نظر اپنے پہلو پر پڑتی ہے تو اسے ایک ایسا دوست وہاں کھڑ انظر آتا ہے جو پہلے ہی اسے بزدل کہا کرتا تھا اسے دیکھ کر معاً اسے خیال ہوتا ہے کہ اگر میں چپ رہا اور اس گالی کا انتقام نہ لیا تو میری بزدلی کے متعلق