خطبات محمود (جلد 22) — Page 346
* 1941 347 خطبات محمود میرے اس دوست کی رائے پکی ہو جائے گی اور وہ اس شخص کی گالی سے نہیں بلکہ اس دوست کو دیکھ کر غضب میں آ جائے گا کیونکہ وہ سمجھے گا کہ اس وقت میرا رہنا آئندہ کے لئے میرے واسطے مشکلات پیدا کر دے گا۔بعض دفعہ اس کا چپ عزیز یا بیوی بچے سامنے ہوتے ہیں۔جن کے سامنے وہ ہمیشہ اپنی بہادری بتایا کرتا ہے اور ان کو ہر روز ڈانٹتا رہتا ہے اور کہتا رہتا ہے کہ میں تمہاری خبر لوں گا۔اس لئے ان کی موجودگی میں اگر کوئی اسے گالی دے تو وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں چپ رہا تو یہ لوگ خیال کریں گے کہ یہ تو بالکل زنخا ہے۔ہم پر تو ہر وقت رعب ڈالتا رہتا ہے مگر دوسروں کے سامنے چپ ہو جاتا ہے۔پس وہ گالی سننے کی وجہ سے نہیں بلکہ بیوی بچوں پر رعب قائم رکھنے کے خیال سے جوش میں آجاتا ہے۔پس کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے موجبات اصل بات سے بھی زیادہ جوش دلانے والے ثابت ہوتے ہیں اور اس مقام یا نظارہ کی وجہ سے جوش آ جاتا ہے۔ایسی حالت میں اگر آدمی اس جگہ سے ہٹ جائے تو چونکہ وہ بیوی بچے جن کی موجودگی اس کے لئے وجہ اشتعال ہو سکتی تھی۔سامنے نہ ہوں گے اور نظارہ بدل جائے گا اس لئے اس کا جوش بھی ٹھنڈا پڑ جائے گا۔نہ اس کے بیوی بچے سامنے ہوں گے اور نہ اس کو ان پر اپنا رعب قائم رکھنے کے لئے غصہ آئے گا یا اس کا دوست سامنے نہ ہو گا۔تو بزدلی کے الزام سے بچنے کے لئے اس کے اندر کوئی جوش بھی پیدا نہ ہو گا۔اسی طرح اسے گالی دینے والا بھی اس کے سامنے نہ رہے گا تو جوش کم ہو جائے گا۔اور صرف وہاں سے ہٹ جانے کی وجہ سے خود بخود ایسے سامان پیدا ہو جائیں گے کہ اس کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا۔پس اشتعال کے دور کرنے کے لئے قرآن کریم نے یہ نسخہ بتایا ہے کہ انسان اس جگہ سے ہٹ جائے 2 اور رسول کریم صلی الیم نے اس کی تشریح میں جو کچھ فرمایا ہے وہ بھی دراصل وہاں سے ہٹ جانے کے ہی مترادف ہے آپ نے جو یہ فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو تو بیٹھ جائے۔بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اور پھر بھی غصہ دور نہ ہو