خطبات محمود (جلد 22) — Page 344
خطبات محمود 345 * 1941 عقل کے تقاضوں اور مذہب کے تقاضوں کو بھول جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللیل ولیم نے جو ہمارے لئے ہر امر میں ہدایت مہیا کرنے والے ہیں اور جنہوں نے ہماری ہر ضرورت کو مد نظر رکھا ہے۔ایسے مواقع کے لئے نہایت اچھا نسخہ بتایا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ جب اشتعال آئے تو اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اور بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ اور اگر پھر بھی اشتعال باقی رہے تو ٹھنڈا پانی پی لو۔اس میں دو باتیں بتائی ہیں اور دو حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔ایک تو یہ کہ جگہ کے بدلنے سے اشتعال میں کمی آ جاتی ہے اور وقت کے تبدیل ہو جانے کی وجہ سے بھی اشتعال میں کمی آجاتی ہے۔دوسرے یہ کہ بعض اوقات اشتعال کا موجب ظاہری اور مادی اسباب بھی ہوتے ہیں۔ٹھنڈا پانی پینے کی ہدایت جو آپ نے فرمائی اس کے معنے یہ ہیں کہ جوش اور غصہ کی وجہ سے خون کھول رہا ہوتا ہے اور خون کے کھولنے سے دماغ کی وہ حس جس سے انسان سوچتا اور سمجھتا ہے باطل ہو جاتی ہے۔جوش کی وجہ سے بعض اوقات دماغ کی رگ پھٹ جاتی ہے اور فالج گر جاتا ہے جس کے نتیجہ میں نہ عقل باقی رہتی ہے، نہ ذہن کام کے قابل رہتا ہے اور نہ قوت حافظہ باقی رہتی ہے۔اور انسان ایک لٹھ کی طرح پڑا رہتا ہے۔بعض دفعہ آدمی بول بھی نہیں سکتا یا اگر بول سکتا ہے تو اس کی عقل ٹھکانے نہیں ہوتی یا اگر عقل ٹھکانے ہو تو وہ ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتا۔تو خون میں جوش کی وجہ سے ظاہری حواس مارے جاتے ہیں اور اسی کی وجہ سے بعض اوقات فالج گر جاتا ہے اور وہی خون جس سے انسان کی عقل قائم ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے وہ سوچتا سمجھتا اور سب کام کرتا ہے جوش کی وجہ سے رگ پھٹ کر اگر اس کی تھوڑی سی مقدار بھی دماغ کی طرف نکل جائے تو حواس مارے جاتے ہیں اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔اس قسم کی حالت کو روکنے کے لئے رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا کہ اگر انسان کھڑا ہو تو بیٹھ جائے۔بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اور غصہ کی وجہ خون زیادہ جوش مار رہا ہو اور لیٹنے سے بھی دور نہ ہو تو ٹھنڈا پانی پی لے۔1۔اس سے اس کی حالت اچھی ہو جائے گی اور عقل عود کر آئے گی۔کھڑا ہوا انسان اگر بیٹھ جائے