خطبات محمود (جلد 22) — Page 301
* 1941 302 خطبات محمود تمہارے کٹورے میں پاخانہ ڈال کر کھاؤں گا۔پاخانہ کھانا بھی تو بہت گندی بات ہے مگر اتنی نہیں جتنی کسی کا یہ کہنا کہ میں خدا ہوں۔اس رسالہ کے مصنف نے بعض دلائل بھی دئے ہیں جن سے وہ مدعی الوہیت یا اس کے مرید اس کے اللہ تعالیٰ کے مثیل ہونے پر استدلال کرتے ہیں۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ایک مرید پر کسی نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم تو شرک کی تردید کرتا ہے اور تم اپنے پیر کو خدا کا مثیل کہتے ہو۔اس نے جواب دیا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ یعنی اس کی مثل کی مانند کوئی نہیں۔پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی مشیل ضرور ہونا چاہئے۔ہاں پھر اس مثیل جیسا کوئی اور نہ ہو سکے گا۔اس رسالہ کا مصنف کہتا ہے کہ میں نے اسے کہا کہ اس آیت میں ک کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں اس کا کوئی مشابہ نہیں اور مثل کے یہ معنے ہیں کہ اس کی صفات میں اس کا کوئی مشیل نہیں مگر معنے بھی غلط ہیں اور دونوں طرف سے جہالت کا مظاہرہ کیا گیا۔چونکہ ہمارے ملک میں بعض جھوٹے صوفیاء بھی ہیں جو ایسے دعوے کرتے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کے متعلق کچھ بیان کر دوں۔ایسے صوفیاء زمینداروں کے پاس عام طور پر آتے رہتے ہیں اور ان کو گمراہ کرتے رہتے ہیں اور انہیں ایسی باتیں بتاتے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ انسان خدا ہے اور خدا کا ہے۔اس قسم کے کئی اباحتی لوگ پھرتے رہتے ہیں اور گندے خیالات لوگوں میں پھیلاتے رہتے ہیں۔میں کئی دفعہ سنا چکا ہوں کہ اسی طرح کا ایک آدمی میرے پاس بھی ایک دفعہ اسی مسجد میں آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ نماز تو خدا تعالیٰ تک کا ذریعہ ہے پھر عارف کو نماز کی کیا ضرورت؟ جب دریا کا کنارہ آ جائے تو کشتی میں بیٹھے رہنے سے کیا فائدہ؟ میں نے اسے جو جواب دیا وہ میں کئی بار بیان کر چکاہوں۔پس ایسے لوگوں کے خیالات کی وجہ سے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کے متعلق کچھ بیان کر دوں۔مثیل ہے۔wwwwwwww