خطبات محمود (جلد 22) — Page 300
* 1941 301 خطبات محمود باتیں کرتے رہتے ہیں اس لئے اس اشتہار میں سے ایک بات کے متعلق کچھ بیان کر دینا میں نے مناسب سمجھا۔میں اس روز بیمار تھا اور کوئی غور و فکر کا کام تو کر نہ سکتا تھا اس لئے اس رسالہ کو اٹھا کر پڑھنے لگا۔جس شخص نے یہ اشتہار لکھا ہے وہ دوسرے کو کہتا ہے کہ تم نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا مثیل قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ اللہ کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور کسی کو اس امت میں سے یہ نام حاصل نہیں۔اور جب لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ یہ نہایت ناپاک گندا دعویٰ ہے تو اس نے اس کا جواب دیا کہ دعویٰ تو میں نے احمدیوں کو چپ کرانے کے لئے کیا ہے۔کیونکہ ان کے مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ اس امت میں سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔اگر تو اشتہار لکھنے والے نے یہ بات اپنے پاس سے کہی ہے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے لیکن اگر یہ صحیح ہے تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی گاؤں کے نمبردار کے ہاں شادی تھی اس نے دوسرے لوگوں کے ہاں سے برتن منگوائے۔ایک بے وقوف آدمی تھا اس کے ہاں سے بھی ایک کٹورا منگوایا اور شادی کے بعد باقی لوگوں کے برتن تو واپس ہوگئے مگر اتفاق سے اس بے وقوف کا کٹورا رہ گیا۔کچھ روز انتظار کے بعد وہ بے وقوف اس نمبر دار کے گھر اپنا کٹورا لینے آیا۔اور اتفاق کی بات بھی کہ اس وقت وہ نمبر دار اس کے کٹورے میں ساگ ڈال کر کھا رہا تھا۔یہ دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا اور جوش کی حالت میں کہنے لگا کہ چوہدری یہ بات تو ٹھیک نہیں۔ایک تو تم نے میرا کٹورا اب تک واپس نہیں کیا، دوسرے اس میں ساگ ڈال کر کھا رہے ہو۔اچھا میں بھی کبھی تمہارا کٹورا مانگ کر لے جاؤں گا اور اس میں پاخانہ ڈال کر کھاؤں گا۔تو یہ شخص بھی ایسا ہی جابل ہے جس نے کہا کہ چونکہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اس لئے میں نے یہ کہہ دیا کہ خدا کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔بلکہ یہ تو اس سے بھی زیادہ بے وقوف ہوا جس نے کہا تھا کہ میں۔