خطبات محمود (جلد 22) — Page 302
خطبات محمود کا 303 * 1941 قرآن کریم ایسی زبر دست کتاب ہے کہ کوئی شخص اس کے غلط معنے کر ہی نہیں سکتا۔لیسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ کے معنے اس شخص نے جہالت کی وجہ سے یہ کئے کہ اس کی مثل کی مانند کوئی نہیں۔مگر دیکھو کس طرح اسی آیت کے سیاق و سباق میں ہی اس کے بے ہودہ خیال کی تردید کر دی گئی ہے۔اس آیت سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُةَ إِلَى اللَّهِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إليه أنيب - اللہ تعالیٰ کی توحید کے متعلق جب بھی کوئی اختلاف کرتا ہے تو یاد رکھو کہ حکم اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتا ہے یعنی یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کا فیصلہ انسانی عقل سے تعلق رکھتا ہو۔ایسے تعلق رکھتا ہو۔ایسے امور میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ظاہر ہے۔اس نے اپنی صفات کو ظاہر کیا ہوا ہے۔ان پر قیاس کر کے دیکھ لو کہ کوئی اس نا شریک ہو سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں کسی نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا ایسے لوگوں کو بعض پاگل ساتھی بھی مل جاتے ہیں۔ایک زمیندار روز دیکھتا تھا کہ بعض لوگ اس کے ارد گرد جمع رہتے۔مولوی آتے اور اس سے فلسفے چھانٹتے اور بحث مباحثہ کر کے چلے جاتے مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔زمیندار کو یہ دیکھ کر کہ یہ شورش روز بروز بڑھتی ہی جاتی ہے، بہت غصہ آتا۔اس فقیر کا ڈیرا بھی زمیندار کے کھیت کے پاس تھا۔سالہا سال کے بعد ایک دن اس زمیندار نے اس شخص کو اکیلا پایا اس کا کوئی مرید وغیرہ پاس نہ تھا یہ دیکھ کر وہ اس کے پاس پہنچا اور ادب سے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا اور دریافت کیا کہ کیا آپ خدا ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔زمیندار نے اُٹھ کر اسے گردن سے پکڑ لیا اور ایک گھونسہ رسید کر کے کہا تم نے ہی میرے باپ کو مارا تھا پھر ایک اور لگایا اور کہا تم نے ہی میری ماں کو مارا تھا میں تو بہت دیر سے تمہاری تلاش میں تھا، تم نے ہی میرے فلاں رشتہ دار کی جان لی تھی۔پھر ایک اور گھونسہ لگایا اور کہا تم نے ہی میرے بیٹے پر موت وارد کی تھی۔اس طرح وہ مارتا جاتا اور ایک ایک کر کے مرے ہوئے رشتہ داروں کے متعلق کہتا جاتا کہ کیا تم نے ہی ان کو مارا تھا۔پھر اسی طرح اپنے مویشیوں کے مرنے اور فصلوں وغیرہ کے خراب ہونے پر ہی