خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 236

1941 237 خطبات محمود کسی کا اس میں داخل ہونا مناسب ہی کس طرح ہو سکتا ہے؟ حق یہ ہے کہ جب مسلمانوں کے متعلق اکابر مسلم لیگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کثرت نے کل شور مچا دینا ہے کہ احمدی مسلمان نہیں ان کو لیگ سے باہر نکال دیا جائے تو ان کی دیانت داری کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ وہ مسلمانوں کی کثرت سے فیصلہ کرائے بغیر احمدیوں و مسلم لیگ میں شامل ہی نہ کریں۔وہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود ہمیں لیگ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔جب وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت ہمارے مسلم لیگ میں شامل ہونے کو پسند نہیں کرتی اور جب وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے شامل ہونے سے ان میں فتنہ پڑ جائے گا تو آخر کیوں ہم کو مسلم لیگ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ان کو چاہئے کہ وہ یہ اعلان کر دیں کہ مسلم لیگ کے کارکن تو چاہتے ہیں کہ احمدی لیگ میں شامل ہو جائیں اور مسلم لیگ کے کارکن احمدیوں کو سیاسی نقطہ نگاہ سے مسلمان ہی سمجھتے ہیں مگر چونکہ مسلمان احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اور وہ ان کی مسلم لیگ میں شمولیت کو پسند نہیں کرتے اس لئے کارکن بھی احمدیوں کو لیگ میں شامل نہیں کرسکتے۔دیانت داری نہیں کہ دونوں نے ایسا رویہ اختیار کیا ہوا ہے جو لوگوں کو دھوکا میں ڈالنے والا ہے۔چنانچہ کانگرس نے تو اپنے ایک ریزولیوشن کی پناہ لی ہوئی ہے اور جب مذہبی آزادی کا سوال ان کے سامنے رکھا جاتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ اس ریزولیوشن میں کانگرس کی پالیسی بیان ہو چکی ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ اس ریزو لیوشن کا مفہوم واضح کرو تو کہہ دیتے ہیں کہ مفہوم خود سمجھتے رہو الفاظ آپ کے سامنے ہیں۔مسلم لیگ کی یہ حالت ہے کہ وہ ہمیں مسلمان سمجھنے کے لئے بھی تیار نہیں۔بلکہ مسلم لیگ نے ہمیں یہاں تک لکھا کہ آپ مسلمان کی تعریف مبہم ہی رہنے دیں تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں ہی مصلحت ہے۔اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ انہیں مسلمانوں کا خوف ہے اور وہ ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے احمدیوں کو بھی مسلمان قرار دے دیا تو فساد پید اہو جائے گا اور جبکہ ان کے نزدیک احمدیوں کو مسلمان