خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 175

1941 176 خطبات محمود رپورٹوں پر کارروائی کرتا تو وہ کہہ دیتا کہ وعدہ کے خلاف کیا جا رہا ہے لیکن اگر یہ بات نہ بھی ہوتی تو بھی یہ میرا کام ہے کہ دیکھوں کس رپورٹ پر کارروائی کرنی چاہئے یا نہیں اور کس کو سزا دینی چاہئے یا نہیں۔رسول کریم صلی الم کے زمانہ میں عبد اللہ بن ابی بن سلول اندرونی دشمنوں میں سے سب سے بڑا دشمن تھا۔واقعہ افک کے متعلق قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ وہ سب سے بڑا مجرم ہے مگر رسول کریم صلی علی یم نے اسے کوئی سزا نہیں دی اور دوسروں کو دے دی۔سوچنا چاہئے کہ اگر میں کسی کو سزا نہیں دیتا تو کیا اپنے کسی فائدہ کے لئے نہیں دیتا۔اگر سلسلہ کے مصالح کا تقاضا و کہ اسے سزا نہ دی جائے تو میں تو تعریف کا مستحق ہوں کہ سلسلہ کے مفاد کے لئے میں اپنے جذبات کو قربان کرتا ہوں اور دینی مصالح کو ذاتی جذبات پر مقدم رکھتا ہوں۔پس ایسا اعتراض کرنے والا نادان ہے اور دین کی باتوں کو نہیں سمجھتا۔یہ میرا حق ہے کہ دیکھوں کس کو سزا دینی چاہئے اور کس کو نہیں۔کس کو سزا دینے میں سلسلہ کا نقصان ہے اور کس کو چھوڑ دینے سے اس کی اصلاح ہو سکتی۔واقعہ افک کے سلسلہ میں آنحضرت صلی علیم نے حسان کو تو کوڑے لگوائے 5 مگر عبد اللہ بن ابی جس کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ وہ سب سے بڑا مجرم تھا اور جس کے متعلق تولی کبرہ 6 فرمایا اُسے ایک جوتا بھی نہیں لگوایا۔کتنے تعجب کی بات ہے کہ قرآن کریم میں ایک مسئلہ ایسی وضاحت سے بیان ہو اور کوئی احمدی سمجھ نہ سکے۔اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی ایسا ہی ہے۔ایک شخص کی زبان سے کوئی بات نکلتی۔ہے اور وہ فوراً پکڑا جاتا ہے اور ایک خدا تعالیٰ کو بھی عمر بھر گالیاں دیتا ہے اور اسے کوئی گرفت نہیں ہوتی۔ہے۔میں ایک دفعہ لکھنو گیا وہاں ندوہ میں ایک مولوی عبد الکریم صاحب افغان تھے انہوں نے ہمارے خلاف جلسے کئے اور ایک جلسہ میں کہا کہ مرزا صاحب نبی بنے پھرتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ مجھے مرزا حیرت دہلوی نے سنایا کہ مرزا صاحب دتی میں آئے اور مجھے علم ہوا تو میں انسپکٹر پولیس بن کر اس مکان پر گیا جہاں آپ