خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 174

1941 175 خطبات محمود حضرت عمر نے اسے مارنے کا ارادہ کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے بچانا تھا اس لئے حضرت عمرؓ کو ملا نہیں اور آخر اس کی لاش جنگ صفین کے بعد ملی۔4 تو اس کے بازو پر بالکل عورت کے پستان کی طرح گوشت کا لوتھڑا پایا گیا۔وہ تو نظاموں اور سلسلوں کا کام چلانے کے لئے بعض حکمتوں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے جن کو مد نظر رکھنا خلیفہ کا فرض ہے۔ورنہ خلافت کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔اگر ہر ایک کو سزا ہی دینی ہو تو خلیفہ کی کیا ضرورت ہے۔اس کے لئے تو مشین ہی کافی ہے۔خلیفہ کی ضرورت تو یہی ہوتی ہے کہ وہ مصلحت اور حکمت کو دیکھتا ہے۔اگر وہ دیکھے کہ ایسے جرائم میں جن کے لئے حد شرعی مقرر نہیں دوسروں کے حقوق تلف نہیں ہوتے۔کسی کو سزا نہ دینے میں سلسلہ کا کوئی نقصان نہیں اور اس کا ایمان بچتا ہے تو اسے سزا نہ دینا نا انصافی نہیں بلکہ اگر کسی کو مال دینے میں سلسلہ کا نقصان نہ ہوا اور کسی کا ایمان سلامت رہے تو مال دے دینا بھی کوئی نا انصافی نہیں۔پس سزا نہ دینا اور کسی کو معاف کر دینا شرعاً جائز ہے۔سامانہ کا ایک شخص آجکل لوگوں میں یہ پروپیگنڈا کرتا پھرتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں لوگوں کے متعلق اطلاع دی تھی کہ وہ منافقوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور ان کو سزا نہیں دی گئی۔یہ شخص مجھ سے خود خواہش کر کے اور اجازت لے کر ملتا رہا جن سے ملنے کی اجازت نہیں اور خود اس نے مجھ سے یہ خواہش کی کہ اس کی کسی رپورٹ پر کارروائی نہ کی جائے ورنہ اس کا راز فاش ہو جائے گا۔میں نے اسے کہا کہ بعض اوقات کارروائی کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ طریق اختیار کرو کہ جب تم یہ سمجھو کہ فلاں بات ایسی ہے جس کے متعلق تم گواہی پیش کر سکتے ہو تو اسے رپورٹ میں نہ لکھنا بلکہ اسے الگ کاغذ پر لکھ کر لفافہ میں رپورٹ کے ساتھ رکھ دینا اور میں وہ کاغذ امور عامہ میں بھیج دیا کروں گا۔مگر اب وہ کہتا پھرتا ہے کہ میں نے رپورٹیں کیں اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ اس نے خود یہ خواہش کی تھی کہ اس کی رپورٹوں پر کارروائی نہ کی جائے ورنہ اس کا راز فاش ہو جائے گا۔اگر میں اس کی یا