خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 176

1941 177 خطبات محمود سکتا ٹھہرے ہوئے تھے اور نوکر سے کہا کہ مرزا صاحب کو جلدی اطلاع دو کہ پولیس افسر آیا ہے۔نوکر نے جا کر اطلاع دی اور مرزا صاحب گھبراہٹ میں جلدی جلدی نیچے اترے اور آخری سیڑھی پر پہنچ کا ان کا پاؤں پھسل گیا اور گر پڑے۔یہ واقعہ سنا کر وہ مولوی خوب ہنسا کہ ایسا شخص بھی نبی ہو ہے۔اب یہ تمسخر تو ہے مگر کیا اتنا بڑا جو مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیشہ کرتے ہیں؟ لیکن دیکھ لو مولوی ثناء اللہ صاحب کو اتنی لمبی عمر ملی ہے اور مولوی عبد الکریم صاحب تیسرے ہی دن کو ٹھے سے گرا اور مر گیا۔بالکل اسی طرح جس طرح اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف غلط واقعہ منسوب کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے سزا دے دی۔پس یہ تو ایسی بات ہے جو خدا تعالیٰ بھی کرتا ہے، اس کے نبی بھی کرتے رہے ہیں اور مجھے بھی کرنی پڑتی ہے۔بعض اوقات میں دیکھتا ہوں کہ ایک ایسا بے حیا ہے کہ اس پر گرفت کرنے کے کا کوئی فائدہ نہیں اور اس کے برے نمونہ کا دوسروں پر بھی اثر نہیں ہوتا۔کیونکہ سب پر اس کی حالت عیاں ہوتی ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ بے حیا ہے اس لئے اسے چھوڑ بھی دیتا ہوں۔مگر دوسرا وہی جرم کرتا ہے تو چونکہ لوگوں کو اس سے حسن ظنی ہوتی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسے سزا نہ دی گئی تو دوسروں پر بُرا اثر ہو گا۔اسے چونکہ لوگ اچھا آدمی سمجھتے ہیں وہ خیال کریں گے کہ شاید یہ کام بھی اچھا ہو۔اس لئے اسے سزا دے دی جاتی ہے یا بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ سزا سے اس کی اصلاح ہو جائے گی اس لئے سزا دے دی جاتی ہے۔سزا دینے یا نہ دینے کے متعلق بیسیوں وجوہ ہو سکتے ہیں۔کبھی اس کا خیال رکھنا ہوتا ہے کبھی اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کا اور سلسلہ کا۔اور خلیفہ کا حق ہے دیکھے کس موقع پر کیا طریق عمل اختیار کرنا مناسب ہے۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ ہر ایک کے متعلق ان کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس طرح حکمت باطل ہو جاتی ہے۔اگر ہر ایک واقعہ کے متعلق جلسہ کیا جائے جس میں بتایا جائے کہ فلاں ایسا بُرا ہے کہ اس کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں اس لئے اسے سزا نہیں دی گئی تو