خطبات محمود (جلد 22) — Page 115
$1941 115 خطبات محمود کتنے ہیں جو لباس کو صاف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، کتنے ہیں جو اپنے مونہوں کو صاف رکھتے ہیں، کتنے ہیں جو پسینہ وغیرہ کی بو اور دوسری بدبو دار چیزوں سے مسجد بچانے کی کوشش کرتے ہیں؟ میں نے ایک دفعہ جماعت کو مساجد میں صفائی رکھنے کی طرف توجہ دلائی تو بعض لوگوں نے میری تحریک پر یہ کام شروع کر دیا اور مسجد کی صفائی کا وہ خیال رکھنے لگے۔چنانچہ مدرسہ احمدیہ کے طالب علم بھی اس صفائی میں حصہ لیا کرتے تھے مگر کچھ عرصہ کے بعد یہ بات جاتی رہی حالانکہ مساجد کو صاف رکھنے کا رسول کریم صلی ا ہم نے خاص طور پر حکم دیا ہے۔کیونکہ جو مذہب اجتماع پر اپنی بنیاد رکھتا ہو اور مدنیت سے اس کے کثیر احکام کا تعلق ہو وہ۔تک ہو خیال نہ رکھے کہ اجتماع کے موقعوں پر حفظانِ صحت کے خلاف کوئی بات اس وقت تک وہ اپنی جماعت کو کبھی ترقی کی طرف نہیں لے جا سکتا۔اسی طرح رسول کریم صلی ای کریم نے فرمایا ہے کہ جب کسی کو طاعون نکل آئے تو وہ اپنی جگہ سے نے نکل کر کسی اور جگہ نہ جائے اور نہ باہر والے وہاں جائیں۔4 اس طرح اسلام طاعونی ضرر سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی ہے۔غرض جو چیزیں صحت پر بُرا اثر ڈالنے والی ہیں ان سب سے اسلام نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔مثلاً اسلام نے بتایا ہے کہ ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔اب اگر یہ مسئلہ نہ ہوتا اور ایک اصول قائم نہ کر دیا جاتا تو کئی لوگ مسجدوں میں آتے اور ہوائیں خارج کرتے رہتے۔نتیجہ یہ ہوتا کہ بدبو سے لوگوں کا دماغ خراب ہو جاتا۔پس اس میں بھی اسلام نے حکمت رکھی ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا یا بلغم پھینکنا گناہ ہے۔اور اگر کوئی شخص تھوک دے یا بلغم پھینکے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس تھوک کو اٹھا کر زمین میں دفن کرے۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ مسجد ایک ایسی جگہ ہے جہاں سب مسلمانوں نے اکٹھا ہونا ہوتا ہے اگر تھوک یا بلغم پڑا ہو تو لوگوں کو تکلیف ہو۔نمازیں پڑھنی ہوتی ہیں ایسی صورت میں نمازیوں کو جو تکلیف پیش آسکتی تھی وہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔مسجد میں