خطبات محمود (جلد 22) — Page 114
$1941 114 خطبات محمود اس کا انسان کی اپنی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے اور دوسروں کو بھی بُو سے اذیت پہنچتی ہے۔اس لئے رسول کریم صلی ا ہم نے ہدایت دے دی کہ کپڑے بدل کر آیا کرو۔ہمارے ملک میں عام طور پر لوگ نہانے دھونے کے بہت کم عادی ہیں لیکن عرب میں اس کا بڑا رواج تھا۔میں نہیں جانتا یہ رواج اس وقت ہے یا نہیں مگر حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ جب ہم مکہ میں گئے تھے تو اس وقت تک عرب لوگوں میں یہ رواج تھا کہ رات کے وقت وہ اپنا تمام لباس اُتار کر شب خوابی علیحدہ لباس پہن لیتے اور عورتیں روزانہ رات کے وقت دن کے پہنے ہوئے کپڑوں کو دھو لیتیں۔اس طرح سوتے وقت وہ روزانہ اپنے کپڑوں میں سے پسینہ دھو ڈالتے تھے حالانکہ وہاں پانی کی کمی تھی مگر ہمارے ملک میں بعض امراء تو روزانہ بھی کپڑے بدل لیتے ہیں لیکن بعض دوسرے تیسرے دن بدلتے ہیں اور معمولی حیثیت کے لوگ آٹھویں دن کپڑے بدلتے ہیں اور غرباء کپڑا پہن کر اس کے پھٹنے تک اسے نہیں اتارتے۔حالانکہ اگر کسی شخص کو صابن سے کپڑے دھونے کی توفیق ہے تو اسے چاہئے کہ صابن سے کپڑے دھو لیا کرے اور اگر کسی کو صابن خریدنے کی توفیق نہیں تو وہ یہ تو کر سکتا ہے کہ رات کے وقت کپڑوں کو پانی میں ڈال دے اور صبح انہیں اچھی طرح مل کر اور نچوڑ کر دھوپ میں لٹکا دے۔اس طرح چاہے وہ کپڑا سفید نہ ہو مگر پسینہ جو ضرر رساں چیز ہے اور اس کی بُو جو دوسروں کے لئے اور خود اس کے لئے اذیت کا موجب بنتی ہے وہ اور دوسرے لوگ اس سے محفوظ ہو جائیں گے۔میں نے بتایا ہے کہ عرب میں کم سے کم اس وقت تک یہ رواج ضرور تھا جب حضرت خلیفہ اول حج کے لئے مکہ تشریف لے گئے تھے اور پھر پڑھنے کے وہیں ٹھہر گئے۔ممکن ہے یہ رواج اب بھی ہو کیونکہ قومی رواج جلدی نہیں مٹ جایا کرتے۔لیکن اگر اب مغربی اثر کے ماتحت اس میں کمی آگئی ہو تو پھر بھی کچھ نہ کچھ رواج اہل عرب میں ضرور ہو گا۔بہر حال اسلام نے جسم اور کپڑوں کی صفائی کے متعلق جو احکام دیئے ہیں وہ معمولی نہیں مگر کتنے ہیں جو ان پر غور کرتے ہیں، لئے