خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 116

$1941 116 خطبات محمود تھوکنے کی عادت تو مسلمان اب چھوڑ بیٹھے ہیں لیکن مسجد میں بے احتیاطی سے کھانا کھانے کی عادت ابھی ان میں سے نہیں گئی۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سالن گر جاتا ہے اور پھر اس سالن پر یا دال پر لکھیاں بیٹھتیں اور بُو پیدا ہوتی ہے۔حالانکہ اگر وہ اس بات کو سمجھتے کہ مسجد میں تھوکنے کو رسول کریم صلی الم نے منع فرمایا ہے تو وہ مسجد میں دال وغیرہ گرا کر تھوک سے بھی زیادہ غلاظت نہ پھیلاتے۔تھوک بیشک ایک کراہت کی چیز ہے مگر اس کی سڑاند بعد میں قائم نہیں رہتی لیکن سالن اور دال وغیرہ جب مسجد میں گر جائے تو چونکہ ان چیزوں میں گھی ہوتا ہے اس لئے اس کی سڑاند بعد میں بڑھتی رہتی ہے۔مگر لوگ تھوک تو مسجد میں نہیں پھینکتے اور دال یا سالن گرا کر اس سے بہت زیادہ سڑاند پیدا کر دیتے ہیں۔مسجد میں بے شک کھانا کھانا منع نہیں مگر اتنی احتیاط تو ضرور کر لینی چاہئے کہ انسان کھاتے وقت کوئی کپڑا بچھا لے اور پھر احتیاط سے کھائے تاکہ مسجد میں چیونٹیاں اور مکھیاں اکٹھی نہ ہوں اور نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔غرض مساجد غرض مساجد کو صاف رکھنا اور اپنے کپڑوں کو صاف کر کے اور عطر وغیرہ لگا کر اجتماع میں شامل ہونا کیا بلحاظ ایک مذہبی حکم کے اور کیا بلحاظ دوسرے لوگوں پر اس کے اثرات کے ایک نہایت ضروری مسئلہ ہے اور اس کا صحت پر شدید اثر پڑتا ہے۔مجھے، جیسا کہ قریب بیٹھنے والے دوستوں کو معلوم ہے آج اس مضمون کی اس طرح تحریک پیدا ہوئی کہ جب میں مسجد میں پہنچا تو چونکہ سائبان لگا ہوا تھا لیکن مشرق کی طرف سے زمین کی طرف جھک گیا تھا اور کھڑکیاں بند تھیں اس لئے لوگوں کے سانسوں کی وجہ سے اس قدر شدید بو پیدا ہو چکی تھی کہ جیسے برسات میں گھر کے اندر گیلے کپڑے پڑے ہوئے ہوں اور منبر پر کھڑے ہوتے ہی میرے سر میں درد شروع ہو گیا حالانکہ احکام شریعت کے ماتحت میرے آنے سے پہلے ہی دوستوں کو فوراً اس کا انسداد کرنا چاہئے تھا۔آخر ہر ایک کو خدا تعالیٰ نے ناک دی ہے اور ہر ایک کو یہ مسئلہ بھی معلوم ہے۔آج دھوپ نہیں تھی اس لئے