خطبات محمود (جلد 22) — Page 660
* 1941 660 خطبات محمود ان کو دو چار دفعہ میں ہی پتہ لگ جائے۔غرض مہمان کا یہ حق نہیں کہ وہ کہے میری تقریر سننے کے لئے ہیں، پچیس ہزار آدمی جمع کئے جائیں اور ان کو کھانا بھی کھلایا جائے اور ایسا مطالبہ پورا نہ کر سکنے کا نام اسلامی خُلق کی ضد رکھنا زبر دستی اور دھینگا مشتی ہے۔اگر مولوی صاحب ثابت کر دیں کہ یہ بھی مہمان نوازی میں شامل ہے کہ کوئی شخص کہے میں اپنی تقریر سنانے آ رہا ہوں اور اسے سننے کے لئے ہیں پچیس ہزار آدمی جمع کئے جائیں اور ان کے لئے کھانے وغیرہ کا انتظام کیا جائے تو وہ ایسی آیت اور حدیث جس میں اسے مہمان نوازی کا حصہ قرار دیا گیا ہو لکھ کر بھیج دیں تو میں مان لوں گا۔چاہے مجھے کتنا نقصان ہو میں فوراً تسلیم کر لوں گا لیکن اگر واقعی ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کی مہمان نوازی اسلامی خلق میں داخل ہے تو اس خلق کا تجربہ ہمیں ایک سال کے لئے کر لینے دیں اس کے بعد ہم سے مطالبہ کریں۔ہاں مولوی صاحب اگر میری دعوت کے مطابق آنا چاہتے ہیں تو اپنی سہولت کے لحاظ سے جس موقع پر انہیں میں دعوت دوں آ جائیں لیکن ان کا ہمارے جلسہ کے وقت کو اپنے لئے حاصل کرنے کا مطالبہ کرنا اور یہ کہنا کہ زائد وقت دے کر اپنے بھی اور ان کے بھی ہزاروں آدمیوں کے کھانے کا انتظام کروں یہ کوئی اسلامی خلق میں شامل بات نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص کسی کے ہاں مہمان جائے اور پھر خود ہی کئی ہزار لوگوں کو بھی اس کے ہاں مدعو کرنے کا آرڈر بھیج دے۔ایسے آدمی کو تو ہر شخص ڈھیٹ کہے گا اسلامی مہمان نہیں کہے گا۔پس یہ بات اسلامی خلق میں داخل نہیں کہ ہم مولوی صاحب کی تقریریں سننے کے لئے ہیں پچیس ہزار آدمیوں کو روک کر ان کا زائد خرچ برداشت کریں۔جو جائز صورت وہ تو میں نے خود پیش کر دی تھی اور اس کے لئے میں اب بھی تیار ہوں۔اس صورت میں میرے لئے صرف اتنا کام ہوتا کہ میں قادیان کے لوگوں کو جمع کر دیتا مگر ان کا یہ مطالبہ کہ جلسہ کے دنوں میں ہم ہزاروں لوگوں کو روکیں اور ان پر خرچ کریں یہ مہمان نوازی کا طریق اسلام کی کسی تعلیم میں میں نے نہیں پڑھا۔ہاں