خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 659 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 659

* 1941 659 خطبات محمود ہوتا تو یہاں نہ آتے بلکہ لاہور جاتے۔پس جو لوگ لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ کر کے میری اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی باتیں سننے آتے ہیں انہیں میں مولوی صاحب کی خاطر کیوں مایوس کروں اور کیوں تکلیف میں ڈالوں؟ البتہ میں نے یہ کہا تھا کہ اگر وہ اس موقع پر ہی باتیں سنانا چاہیں تو ہم جلسہ کی تاریخوں آگے یا پیچھے دو دن بڑھا دیں گے اور میں اعلان کر دوں گا کہ دوست کوشش کر کے ان دنوں کے لئے ٹھہر جائیں مگر ان مہمانوں کو چونکہ مولوی صاحب کی باتیں سننے کے لئے ہی ٹھہرایا جائے گا اس لئے ان دنوں کا خرچ بھی انہی کو دینا چاہئے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میرا یہ مطالبہ کہ “ مہمان اپنا ہی نہیں میزبان کا خرچ بھی ادا کرے۔مہمان نوازی کے اسلامی خُلق کی بالکل ضد ہے۔” لیکن میں کہتا ہوں کہ میزبان تو میں ہوں اور میں نے تو اپنا خرچ نہیں مانگا باہر سے آنے والے تو مہمان ہیں اور جن مہمانوں کو ان کی دعوت پر اور ان کی باتیں سننے کے لئے ٹھہرایا جائے گا ان کا خرچ تو بہر حال انہی پر پڑنا چاہئے اور یہ اسلامی خلق کے بالکل خلاف بات نہیں۔مہمان کا خود کہنا کہ میرے لئے پلاؤ پکایا جائے، قورمہ پکایا جائے یہ تو مہمانی نہیں بلکہ بے حیائی سمجھی جاتی ہے۔اگر تو مولوی صاحب کہیں کہ میں خود آتا ہوں ان کی مہمان نوازی کریں گے لیکن یہ کہ مہمان کہے میرے ساتھ اتنے ہزار آدمیوں کی بھی دعوت کرو اور ان کے لئے بھی کھانے کا انتظام کرو یہ کوئی اسلامی خلق نہیں ہے اور ایسی بات نہ کر سکنے کا نام اسلامی خُلق کی ضد میں نے تو کسی جگہ نہیں پڑھا۔اگر جیسا کہ وہ کہتے ہیں یہی اسلامی خُلق ہے تو وہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی اس طرح مہمان نوازی کی دعوت دے دیا کریں اور لکھ دیا کریں کہ آپ اس قدر آدمیوں کی مہمان نوازی کا انتظام کریں۔ہمارے آدمی آپ کو کچھ باتیں سنانے کے لئے آتے ہیں۔ہم دیکھیں گے کہ وہ کس طرح اس اسلامی خلق پر عمل کرتے ہیں۔ہماری تو لاہور کی جماعت ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی ہے باہر سے بھی لے جانے کی ضرورت نہیں۔اگر وہی ان کے اس اسلامی خلق کا امتحان کرنے لگے تو