خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 661 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 661

* 1941 661 خطبات محمود میری دعوت موجود ہے جلسہ کے موقع کے سوا جب وہ آسکیں اور مجھے سہولت ہو وہ تشریف لے آئیں۔میں قادیان کے لوگوں کو جمع کر دوں گا بلکہ باہر بھی اعلان کر دوں گا کہ جو دوست آنا چاہیں آ جائیں۔وہ اپنی باتیں سنا دیں اور میں یا میرا نمائندہ اپنی سنا دے گا مگر جو دعوت وہ چاہتے ہیں وہ تو زبر دستی کی دعوت ہے اور بالکل ایسی ہی بات ہے کہ مہمان نہ صرف خود آ جائے بلکہ کارڈ چھپوا کر دوسروں کو بھی بھیج دے۔لوگ ایٹ ہوم دیا کرتے ہیں جو کسی کے اعزاز میں دعوت ہوتی ہے۔ایسی دعوت پر جسے جتنے آدمیوں کو بلانے کی توفیق ہو بلا لیتا ہے کوئی دس کو بلا سکا تو دس بلا لئے اور کوئی سو کو بلا سکا تو سو کو بلا لیا مگر یہ تو نہیں ہوتا کہ کوئی خود ہی کارڈ چھپوا کر دو ہزار لوگوں کو بھیج دے کہ فلاں شخص کے ہاں میرا ایٹ ہوم ہے تم بھی اس میں شریک ہو یا کسی کے ہاں شادی ہو لوگ جمع ہوں اور مولوی صاحب بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر وہاں پہنچ جائیں اور کہیں کہ میں نے اسلام کے متعلق تقریر سنانی ہے تم اپنی تقریب کو چھوڑ دو اور میری تقریر سنو اور پھر مہمانوں کے لئے جو کھانا تیار ہوا ہو اس پر اپنے ساتھیوں سمیت ہاتھ صاف کرنے لگ جائیں۔یہ کوئی اسلامی تعلیم اور اسلامی خلق نہیں بلکہ اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف بات ہے۔اور ایک سوال کا رنگ ہے جسے اسلام بے شرمی قرار دیتا ہے۔ہم نے تو اتنی شرم کی کہ انہوں نے سوال کیا اور وَأَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ 3 کے حکم کے ماتحت ہم نے ان کو دعوت دے دی کہ آپ آئیے ہم آپ کی میزبانی کریں گے اور آپ کے ساتھ جو چند لوگ ہوں گے ان کی بھی کیونکہ وہ دیر سے کہہ رہے تھے کہ آپ اپنی جماعت کو میری باتیں سننے نہیں دیتے۔میں نے کہا کہ اچھا آپ آ جائیے میں قادیان کے لوگوں میں آپ کی تقریر کرا دوں گا۔مگر انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ اچھا تمہاری میز بانی منظور ہے مگر میری تقریر سننے کے لئے اپنا بیس ہزار آدمی بھی جمع کرو۔اب اگر ہم اتنے لوگوں کو ان کے لئے جمع کریں پھر دو تین ہزار وہ ساتھ لے آئیں تو یہ تو کوئی مہمانی اور میزبانی کی صورت نہیں بلکہ یہ تو ٹوٹ ہے۔