خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 646

1941ء 646 خطبات محمود اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے اور حسب دستور سابق تھوڑی سی زیادتی کے ساتھ وعدے لکھوا دیئے ہیں حالانکہ اگر وہ قربانی کی کوشش کرتے تو اور بھی کر سکتے تھے۔ پھر ایسے بھی ہیں جو پہلے کوتاہی کر رہے تھے اور اپنی حیثیت سے کم چندے لکھوا رہے تھے اور انہوں نے میر اخطبہ پڑھنے کا انتظار نہ کیا اور اس سال بھی حسب سابق ہی چندہ لکھوا دیا جو ان کے لئے قربانی نہیں کہلا سکتی۔ مجھے امید ہے کہ خطبہ کی اشاعت کے بعد دوست اس کے مضمون کو اچھی طرح ذہن میں رکھ لیں گے۔ قادیان کے دوستوں کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ ہر تحریک کو پہلے سن دو لیتے ہیں اور باہر والے جب خطبہ اخبار میں چھپ کر جاتا ہے تو اسے پڑھتے ہیں۔ خطبہ کل شائع ہو جائے گا کیونکہ میں نے گزشتہ خطبہ کل ہی دیکھ کر دیا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا تھا کہ پہلے شائع نہ کرائی اور پرسوں میں نے اتفاقاً ایک جگہ پڑا دیکھا تو خیال آیا کہ اسے دیکھ دوں۔ ایسے خطبات کے متعلق جلدی جلدی یاد دہانی کرائی جانی چاہئے تا وہ جلد از جلد چھپ سکیں۔ بہر حال تحریک شائع ہو چکی ہے اور جماعت کا ایک حصہ وعدے لکھوا بھی ہو جاتا مگر مجھے بعض ضروری کام تھے۔“ الفضل ” والوں نے یاد دہانی حصہ چکا ہے ان میں سے کثیر حصہ تو ایسا ہے جو قربانی کرنے والا ہے ہے اور اور ایک قلیل ایسا ہے جس کے چندے یا وعدے قربانی نہیں کہلا سکتے۔ میں ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ صحیح معنوں میں قربانی کرنے کی کوشش کریں۔ یہ دینی کام ہے اور ہمارے تمام کام دراصل دعاؤں سے ہی تعلق رکھتے ہیں مگر دوست واقف نہ ہونے کی وجہ سے بہت بڑے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب بھی کوئی دینی تحریک ہو انہیں فوراً دعائیں کرنے میں لگ جانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اسے زیادہ سے زیادہ کامیاب بنائے، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر پر بھی۔ اس کے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ دعائیں اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچتی ہیں اور جماعت کے کمزور اور طاقتور دونوں کو قربانی کا موقع مل جاتا ہے اور انفرادی طور پر