خطبات محمود (جلد 22) — Page 647
خطبات محمود 647 * 1941 یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایسے دوستوں پر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے جو دینی تحریکات کی کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں۔جب تم خدا تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہو اس لئے کہ وہ کسی دینی کام کو پورا کرے (دینی کام دراصل خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے) تو تم گویا اس سے دعا کرتے ہو کہ وہ اپنا کام کرے اور جب تم خدا تعالیٰ کے کام کے لئے اس سے دعا کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میرا بندہ میرا کام کر رہا ہے۔لاؤ میں بھی اس کا کام کروں۔اللہ تعالیٰ کے بہترین فضلوں کو جذب کرنے والی دعاؤں میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ جب بھی کوئی دینی تحریک ہو مومن دعاؤں میں لگ جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے کامیاب کرے اور اگر کوئی مومن کسی دینی تحریک کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہے اور رقت و زاری کے ساتھ کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کسی کو اس میں حصہ لینے کی توفیق مل جاتی تو خواہ وہ دنیا کے کسی کنارے پر رہنے والا ہو اس کا ثواب اسے بھی ملے گا۔ہے جب کوئی مومن کسی دینی تحریک کی کامیابی کے لئے بڑی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس بندے نے بڑی دعا کی ہے اس کے نتیجہ میں اسے کچھ ضرور دینا ہے اور وہ کسی دور مقام پر رہنے والے کسی شخص کے دل میں یہ جوش پیدا کر دیتا ہے کہ وہ اس میں زیادہ حصہ لے اور اس کا ثواب اس کے نام بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ اس کی روحانی تحریک سے اسے خدمت دین کا موقع ملا۔مگر اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ہمارے بندے نے ہمارے کام کی خاطر دعا کی ہے اور ہمارے پاس آیا ہے کہ ہم اپنا کام کریں۔اس نے ہمارے کام کی فکر کی ہے ہم اس کے کاموں کی فکر کیوں نہ کریں۔تو اس دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ خود اس کے کاموں کا بھی متکفل ہو جائے گا اور اس کے کام خود کرنے لگے گا۔اگر کوئی سچے دل گر آزمائے تو اسے ولایت کا مقام حاصل ہو جائے گا۔ولایت اسی کا نام ہے۔اولیاء اور صلحاء کے کاموں کے خدا تعالیٰ کے متکفل ہو جانے کی کیا وجہ ہے ؟ یہی کہ وہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں لگ جاتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ ان کے کاموں کا۔