خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 566

* 1941 566 خطبات محمود تو خدا ہمیں خود حکم دے گا کہ اب جرمنوں کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگنا شروع کر دو مگر جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں کوئی ایسا حکم نہیں ملتا اس وقت ہمارا یہی فرض ہے کہ انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریزوں کے لئے دعا کی ہے۔پس جب تک وہ دعا قائم ہے اور جب تک خدا تعالیٰ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ اب حالات بدل گئے ہیں اور اس دعا کا زمانہ ختم ہو چکا ہے، اُس وقت تک ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی دعاؤں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کے ساتھ ملائیں۔ہمیشہ کے لئے تو کوئی چیز قائم نہیں رہتی۔وہی مدینہ کی گلیاں جن کے متعلق رسول کریم صلی ال ولیم نے فرمایا تھا کہ وہ امن کی جگہ ہیں ایک وقت ایسا آیا کہ ان میں فساد ہوا۔پس پیشگوئیاں وقتی ہوتی ہیں اور ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کا زمانہ ختم ہو جائے مگر یہ خدا تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے کہ وہ وقت آیا ہے یا نہیں۔ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم آپ ہی آپ یہ فرض کر لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔یہ انتہا درجہ کی گستاخی اور بے ادبی ہو گی کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر حکومت کریں۔جو چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو الہام سے معلوم ہوئی ہے۔یا تو اسی الہام میں کوئی ایسی مخفی بات ہو سکتی ہے جو اپنے وقت پر ظاہر ہو کر بتا دے کہ اب اس دعا کا زمانہ ختم ہو چکا ہے اور یا پھر تازہ الہام ہی کسی پہلے الہام کو بدل سکتا ہے۔بہر ہے۔بہر حال جب تک اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی ایسی بات نہیں بتاتا ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں سے اپنی دعاؤں کو ملائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس فتنہ سے ہمارے ملک کو بھی بچائے اور انگریزوں کو بھی محفوظ رکھے اِس وقت بعض اس قسم کے خطرناک حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ اند رہی اندر سخت تشویش پیدا ہو رہی ہے اور ایسے نازک حالات مجھے جاتے ہیں کہ ڈر پیدا ہو گیا ہے کہ جس طرح یکدم بند ٹوٹ اسی طرح اچانک کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہو جائے جس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو۔جاتا ہے