خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 567

خطبات محمود 567 بھی * 1941 دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اندرونی طور پر کوئی امن نہیں۔اگر حکومت کمزور ہو گئی تو قومیں ایک دوسرے کا گلا گھونٹنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوں گی۔سچا تقویٰ لوگوں کے تقویٰ لوگوں کے قلوب میں نہیں پایا جاتا۔ہندو مسلمان کے خون کا پیاسا ہے اور مسلمان ہندو کے خون کا پیاسا۔سکھ عیسائیوں کے دشمن ہیں۔اور عیسائی سکھوں کے دشمن ہیں یہی حال دوسری قوموں کا ہے۔ایک دوسرے کی ہمدردی اور محبت کے جذبات مٹ چکے ہیں اور دشمنی اور عناد دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ایسے حالات میں اگر حکومت کمزور ہو جائے تو باہمی عناد بہت بڑھ جائے گا اور ہماری جماعت کے لئے تو غیر معمولی خطرات پیدا ہو جائیں گے۔ہمارے ارد گرد مختلف قومیں چوری چوری ہتھیار جمع کر رہی ہیں۔چوری چوری گولہ بارود جمع کر رہی ہیں۔اور ان کی دلیری یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ بعض لوگ احمدیوں کے پاس اور ان سے سے کہنے لگے کہ اپنی بندوقیں زیادہ قیمت پر ہمارے پاس بیچ ڈالو۔ایسے خطرہ کے موقع پر بالخصوص چھوٹی جماعتوں کے لئے خدا کے سوا اور کوئی سہارا نہیں ہوتا۔مگر افسوس ہے ابھی تک ہماری جماعت کے دوستوں کو بھی اس فتنہ کی اہمیت کا پوری طرح احساس نہیں ہوا۔بیسیوں لوگ ہیں جو باوجود میرے خطبات سننے کے آنے والے خطرہ سے بالکل غافل ہیں اور دل میں سمجھتے ہیں کہ انگریزوں سے ہمارا کیا تعلق ہے۔انگریز بھی ہمارے دشمن ہیں اور جرمن بھی ہمارے دشمن ہیں اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ انگریزوں سے ہماری کوئی قومی دشمنی نہیں بلکہ اِس وقت تک پنجاب کی حکومت کے صرف چند افراد ہیں جن سے ہمیں شکایت ہے اور ان چند افراد کی دشمنی کو تمام قوم کی دشمنی قرار دینا بہت بڑی حماقت ہے۔اگر ہم ایسا کریں تو یہ وہی ہجوم والی روح ہو گی جو شہروں میں بالعموم نظر آتی ہے۔کوئی ہے اور اس لڑائی میں مثلاً مسلمان مارا جاتا ہے۔اب مسلمان کسی ہندو سے لڑ بیہ پڑر منا مسلمان نہ یہ دیکھتے ہیں کہ جو مسلمان مارا گیا ہے وہ کیسے اخلاق رکھتا تھا، نہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس جگہ کا رہنے والا تھا، نہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ظالم تھا یا مظلوم کی