خطبات محمود (جلد 22) — Page 565
* 1941 565 خطبات محمود وہ کامیاب ہو کر آگے بڑھے گا۔اور لنڈن میں اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور پھر وہ اس بات کا بھی امکان سمجھتے تھے کہ حکومت لنڈن سے بھاگ جائے اور کینیڈا میں جا کر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑے۔4 اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ یہ چھ مہینے پہلے کی بات ہے۔یعنی چھ مہینے کے بعد انگریزوں کی حالت بدل جائے گی اور پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے۔چنانچہ ٹھیک چھ ماہ کے بعد ان کی حالت تبدیل ہوئی اور وزیر جنگ نے ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج سے چھ ماہ پہلے سوائے بیوقوف کے اور کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ہم اس جنگ میں حاصل کر لیں گے اب کجا تو انگریزوں کی یہ حالت تھی کہ وزیر اعظم تک کہہ رہا تھا کہ اگر حالات بگڑے تو ہم لنڈن چھوڑ کر کینیڈا چلے جائیں گے اور کجا یہ حالت ہوئی کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا تھا۔چھ ماہ کے بعد ان کی حالت پہلے سے بہت مضبوط ہو گئی۔غرض انگریز اگر سوچتے تو ان کے لئے یہی نشان کافی تھا۔مگر افسوس ہے کہ ان کی سمجھ میں اب تک یہ بات نہیں آئی کہ ہمارے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا خدا سے مقابلہ کرنا ہے۔اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اگر انہوں نے اپنے رویہ کو نہ بدلا تو وہ خدا تعالیٰ کے غضب کے مورد ہو جائیں گے۔بہر حال وہ جو کچھ چاہتے ہیں کریں۔ہم نے ان کا معاملہ خدا پر چھوڑا ہوا ہے۔انہوں نے سلسلہ کی جو تازہ ہتک کی ہے۔اس کے متعلق ہم اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت کی طرف جواب آجائے۔ان کی کارروائیوں کا ہمیں درمیان میں علم بھی ہوتا رہتا ہے۔مگر بہر حال جو ہمارا فرض ہے وہ ہمیں ادا کرنا چاہئے اور اس جنگ میں انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔اگر کوئی دن ایسا آیا جب خدا نے یہ فیصلہ کر دیا کہ انگریز بھی ویسے ہی بڑے ہو گئے ہیں جیسے جرمنی والے بُرے ہیں تو خدا خود میں کہے گا کہ اب انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعائیں کرنا چھوڑ دو اور غیر جانبدار ہو بیٹھ جاؤ اور جب اس نے فیصلہ کیا کہ انگریز، جرمن سے بھی بدتر ہو گئے ہیں