خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 440

* 1941 440 خطبات محمود بات آجائے تو آخر اس اہم بات کی قربانی دینی ہی پڑتی ہے۔وپے جان کتنی پیاری چیز ہے لوگ اپنی یا اپنے کسی عزیز کی جان بچانے کے لئے بھی خرچ کرتے ہیں، تکلیفیں بھی اٹھاتے ہیں، منتیں اور خوشامدیں بھی کرتے ہیں۔چنانچہ جب کسی کا کوئی عزیز بیمار ہو جاتا ہے تو سارے رشتہ دار اس کے علاج اور تیمار داری کے لئے جمع ہو جاتے ہیں، ڈاکٹروں کی فیسیں دیتے ہیں، دوائیں بیچنے والوں کو قیمت ادا کرتے ہیں، نرسیں رکھتے ہیں۔بیوی بیمار ہو تو خاوند اور بچے اور اگر خاوند بیمار ہو تو بیوی اور بچے راتوں کو جاگتے اور ہر قسم کی تکالیف اپنے نفس پر برداشت کرتے ہیں۔اسی طرح باپ یا ماں بیمار ہو تو تمام بچے ایسی خدمات میں لگ جاتے ہیں جو دوسرے اوقات میں نہیں کر سکتے مگر جب ملکی حفاظت کا فرض قوم پر عائد ہوتا ہے تو وہی جان جسے اتنا قیمتی خیال کیا جاتا ہے کوئی شخص کوڑیوں کے برابر بھی اس کی قیمت تجویز نہیں کرتا اور ہر محب وطن اپنی قوم اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ماں باپ کی عزت کتنی پیاری ہوتی ہے مگر جب دنیا میں خدا تعالیٰ کے انبیاء آتے ہیں تو وہ ماں باپ جن کے لئے انسان اپنی قوم سے، اپنے دوستوں اور اپنے ہمسائیوں سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کو بالکل قربان کر دیا جاتا ہے۔تو یہی سوال نہیں ہوتا کہ کوئی امر بڑا ہے بلکہ یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ آیا اس کے مقابلہ میں کوئی اس سے بھی بڑا معاملہ ہے یا نہیں۔اور اگر ہو اور اس کے مقابلہ میں نسبتی طور پر وہ چھوٹا سمجھا جا سکتا ہو تو خواہ وہ اپنی ذات میں کتنا ہی بڑا اور اہم معاملہ کیوں نہ ہو اسے قربان کر دینا پڑے گا۔پس میں خود بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے ان باتوں کو بیان کرنا چاہتا ہوں اور جماعت کے دوستوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔جب وہ باتیں جن کو میں ابھی بیان کروں گا ہو رہی تھیں اس وقت بعض جو شیلے دوستوں نے مجھے کہا کہ اب وقت نہیں رہا کہ ہم حکومت کی ہر بات مانتے چلے جائیں مگر میں نے اس وقت بھی انہیں