خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 439

* 1941 439 خطبات محمود دوستوں کو نصیحت کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں کیونکہ یہ جنگ کا وقت ہے اور ایک ایسی عظیم الشان لڑائی دنیا کے پردہ پر لڑی جا رہی ہے جس کا اثر اسلام اور احمدیت پر پڑنا بھی ضروری ہے اور دنیا کے تمام ممالک اور افراد پر بھی اس کا اثر پڑنا ضروری ہے۔گویا دنیا کی قسمت کا فیصلہ موجودہ زمانہ یا موجودہ صدی میں اس جنگ سے وابستہ ہے۔پس چونکہ آجکل ایک ایسا نازک دور ہے جس میں وہ جنگ لڑی جا رہی ہے جس کا اثر اسلام اور احمدیت پر بھی پڑتا ہے اس لئے ہمیں دوسرے تمام واقعات کے متعلق اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہئے تاکہ اس جد و جہد میں جو ہماری جماعت کر رہی ہے ، کر سکتی ہے یا آئندہ کرے گی کسی قسم کی کوتاہی واقع نہ ہو۔میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کسی جوش کے ماتحت چھوٹی چیزوں کے لئے اہم چیزوں کو قربان کر دیا کرتے ہیں ان لوگوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی کشتی میں سوار ہو اور کوئی آدمی اسے گالی دے اور وہ اس سے گتھم تھا ہو جائے اور لڑھک کر سمندر میں گر کر دونوں ڈوب جائیں۔اب میرے نزدیک ایسے انسان یقینی طور پر بے وقوف ہوتے ہیں۔گو مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان میں اس قسم کی بے وقوفی کا ارتکاب کرنے والے بہت سے لوگ پائے جاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ میری جماعت کے لوگ بھی ایسے موقعوں پر مجھے یہ مشورہ دیا کرتے ہیں کہ اب صبر کا وقت نہیں دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے۔مگر جہاں میں ان دوستوں کے اخلاص اور ان کی محبت اور ان کی قربانی کا قائل ہوں اور ان کے ان جذبات پر فخر کرتا ہوں جو سلسلہ کے لئے غیرت کے طور پر ان میں پیدا ہوتے ہیں وہاں مجھے یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ ان کی رائے صائب اور درست نہیں۔اور میں اسے نہیں۔اور میں اسے تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ میرے نزدیک خواہ کوئی کتنی ہی بڑی بات ہو اور خواہ ایسی اہم بات ہو جسے دوسرے وقتوں میں انسان قربان نہیں کر سکتا اگر اس وقت اس کے مقابل پر اس سے بڑھ کر کوئی اور