خطبات محمود (جلد 22) — Page 441
* 1941 441 خطبات محمود یہی کہا کہ آجکل جنگ کا زمانہ ہے اور یہ سوال بہت زیادہ اہم ہے بہ نسبت اس کے کہ پنجاب گورنمنٹ یا اس کے کسی صیغہ سے ہمارا کوئی جھگڑا ہو بے شک اس واقعہ کے ذریعہ یت کی تذلیل کی گئی ہے مگر چونکہ اس سوال سے بہت زیادہ اہم سوال وہ ہے جو جنگ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے اور جس کے اثرات اسلام اور احمدیت پر پڑنے یقینی ہیں اس لئے میں کوئی ایسا قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں جس کا اثر ہماری ان کوششوں پر پڑے جو جنگ کے متعلق ہماری طرف سے کی جا رہی ہیں۔دوسرے اس لئے بھی ہمیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہئے کہ ہمیں ابھی تک اصل مجرموں کا پتہ نہیں لگ سکا اور ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ حکومت پنجاب کا اس میں دخل ہے یا نہیں۔اور اگر دخل ہے تو کس حد تک۔اسی طرح ابھی تک ہم یقینی طور پر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کسی لوکل افسر کا اس میں دخل ہے یا نہیں۔جہاں تک میر اعلم ہے اور پرسوں تک جو کچھ واقعات میرے علم میں آئے ہیں ان سے نتیجہ نکال کر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ لوکل افسروں کا اس میں کوئی دخل نہیں۔مگر بہر حال ابھی ہمیں اس بات کا کوئی علم نہیں کہ اس کی اصل ذمہ داری کس پر ہے۔اس لئے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اصل ذمہ دار کون ہے اس وقت تک عقلاً ہمیں اپنے جوشوں کو دبائے رکھنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ اس واقعہ کا کون ذمہ دار ہے۔اب میں اصل واقعات کو بیان کرتا ہوں۔ڈلہوزی میں ڈاک عموماً دس بجے تقسیم ہونے لگتی ہے تو ساڑھے نو بجے وہاں موٹر پہنچتی ہے۔جو لوگ ڈاک لانے کے لئے اپنا آدمی بھیج دیتے ہیں انہیں ڈاک ذرا جلدی مل جاتی ہے اور جو لوگ اپنا آدمی نہیں بھیجتے انہیں ڈاک ذرا دیر میں تقسیم ہوتی ہے۔ہماری ڈاک بالعموم وہاں دس بجے آ جاتی ہے جہاں ڈاکیا تقسیم کرنے جاتا ہے وہاں گیارہ ساڑھے گیارہ بارہ بلکہ ایک بجے بھی پہنچتی ہو گی۔رجسٹریاں اور بیرنگ خطوط چونکہ ڈاکیا ہی لے کر جاتا ہے دوسرا نہیں لا سکتا اس لئے یہ ڈاک ہماری کو ٹھی پر بارہ بجے کے قریب