خطبات محمود (جلد 22) — Page 381
1941ء 382 خطبات محمود اور بغداد کا خلیفہ جو ہو گا کہ یہ علاقہ ۔ خلیفہ اس عورت نے جو بالکل ناواقف تھی اور جسے کچھ پتہ نہ تھا کہ خلیفہ عباسی کونسا ہے کس حالت میں ہے۔ اس نے اپنے کسی رشتہ دار سے اتنا سنا ہوا ہو گا مسلمانوں کا کوئی خلیفہ ہے جو بغداد میں رہتا ہے۔ یہ کہ اس کی حالت کیا ہے، وہ محض ایک قیدی ہے اور اس کی کوئی طاقت نہیں۔ یہ اسے علم نہ تھا۔، مار پیٹ کے وقت وہ چلائی۔ مسلمانوں میں رواج تھا کہ جب نعرہ لگاتے تو يَا لَلْمُسْلِمِينَ کہتے۔ یعنی اے مسلمانو! ہم تمہیں پکارتے ہیں۔ اسی طرح اس عورت نے کہا کہ اے مسلمانو! اے بغداد کے خلیفہ ! میں تم کو پکارتی ہوں۔ جب اس نے یہ نعرہ لگایا۔ مسلمان تاجروں کا کوئی قافلہ اپنے رستہ پر گزر رہا تھا۔ اسے یہ آواز عجیب معلوم ہوئی کہ کہاں بالکل کمزور ایک قیدی کی طرح ہے او رکہاں شام کا یہاں اس عورت کی کیا مدد کر سکتا ہے۔ مگر اہل قافلہ کے دل پر ایک چوٹ لگی۔ قافلہ جب بغداد میں پہنچا تو بازار میں اپنا اسباب وغیرہ اتارنے لگا۔ اس زمانہ میں تجارت چونکہ قافلوں کے ذریعہ ہی ہوتی تھی۔ جب کوئی قافلہ سامانِ تجارت لے کر آتا توسب امیر و غریب تجارتی چیزوں کو دیکھنے کے لئے بازار میں جمع ہو جاتے تھے۔ وہیں چیزیں دیکھتے اور قافلہ والوں سے سفر کے حالات سنتے تھے۔ قافلہ والوں میں سے کسی نے یہ بات بھی بیان کی کہ اس طرح شام میں ہم نے ایک مسلمان عورت کی آواز سنی جسے کسی عیسائی نے مارا اور اس کی بے حرمتی کی تھی۔ اس نے خلیفہ کو پکارا اور کہا میں تجھے مدد کے لئے پکارتی ہوں۔ جس طرح دہلی کے بادشاہوں کے دربار لگتے تھے باوجودیکہ وہ برائے نام بادشاہ ہوتے تھے اسی طرح عباسی خلفاء بھی دربار میں بیٹھتے تھے۔ اس زمانہ میں جو خلیفہ تھا وہ اپنے دربار میں بیٹھا تھا کہ کسی درباری نے بازار سے یہ بات سن کر اس کے سامنے بھی بیان کر دی۔ اور کہا کہ حضور! یہ عجیب بات اہل قافلہ سے معلوم ہوئی ہے۔ عیسائیوں نے آگے بڑھ کر چھاپہ مارا، کسی عیسائی نے ایک مسلمان عورت کی بے حرمتی کی اور اس عورت نے اس طرح دُہائی دی باوجودیکہ اس وقت اس خلیفہ کی حالت شطرنج کے بادشاہ کی تھی۔ اس نے یہ بات سنی تو یہ