خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 382

* 1941 383 خطبات محمود اسے کھا گئی۔وہ فوراً تخت سے نیچے اتر کر ننگے پاؤں چل پڑا اور کہا کہ میں اب واپس نہیں لوٹوں گا جب تک کہ اس مسلمان عورت کا بدلہ نہ لے لوں۔اس نے سے باہر آکر خیمے لگا دیئے۔شہر میں اور علاقہ میں آگ کی طرح یہ بات پھیل شہر۔گئی اور مسلمان نوجوان اس کے جھنڈے تلے جمع ہونے لگے۔آخر یہ لشکر شام طرف چلا۔عیسائیوں پر حملہ کیا اور عیسائیوں نے مسلمانوں سے جو علاقے نئے نئے لئے تھے وہ ان سے واپس لئے اور اس طرح اس عورت کی داد رسی کر کے خلیفہ عباسی واپس آیا۔یہی دردِ اسلامی تھا جس نے سینکڑوں سال اسلام کے نام کو اونچا کئے رکھا۔یہ گرے ہوئے زمانہ کا حال ہے جب عیسائیت پھر سر نکال رہی تھی جب اسلامی نظام ٹوٹ چکا تھا بلکہ پارہ پارہ ہو چکا تھا۔مگر آج کیا ہے؟ نہ بادشاہوں کے دل میں یہ اسلامی درد پایا جاتا ہے اور نہ رعایا کے دل میں۔ایک اسلامی حکومت بھی تو ایسی نہیں جس نے کبھی اسلامی جذبہ کے ماتحت کسی دوسری اسلامی حکومت کا ساتھ دیا کبھی نہیں ہوا کہ ترکوں پر کسی دشمن نے چڑھائی کی تو ایران اور افغانستان مدد نے اس کا ساتھ دیا ہو یا ایران پر حملہ ہوا اور افغانستان اور ترکوں نے اس کی کی ہو۔یورپ کی عیسائی حکومتوں میں یہ بات نظر آتی ہے مگر اسلامی حکومتوں میں نہیں۔پولینڈ پر حملہ ہوا تو برطانیہ اور فرانس اس کی طرف سے لڑے۔چیکو سلواکیہ پر حملہ ہونے لگا تھا تو برطانیہ، فرانس اور روس اس کی طرف سے لڑنے کو تیار ہو گئے تھے۔جرمنی پر حملہ ہوا تو اٹلی اس کی طرف سے لڑنے کو تیار ہو گیا۔تو دوسری قوموں میں تو یہ بات ہے مگر مسلمانوں میں نظر نہیں آتی۔انہوں نے کبھی بھی وہ ہمدردی نہیں دکھائی جو مسلمانوں کے لئے ایک دوسرے سے سے رکھنی رکھنی ضروری ہے رسول کریم صلی اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں۔جب ایک عضو میں تکلیف ہو تو سارا جسم درد محسوس کرنے لگتا ہے۔3 ہاتھ کی انگلی میں درد ہو ، منہ کے کسی حصہ میں تکلیف ہو یا پنڈلی پر بھڑ کاٹ جائے تو کیا باقی جسم حالانکہ