خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 380

* 1941 381 خطبات محمود تھوڑا ہی عرصہ سلوک اچھا نہیں، جوش میں آجائیں تو بے شک قربانی کریں گے مگر یہ صرف ایک دو دن یا ایک دو گھنٹہ تک ہی ہو گی اس سے زیادہ نہیں۔آج سے ہوا شہید گنج کے گوردوارہ کے متعلق ان میں کتنا جوش پایا جاتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا اب یہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ہی دم لیں گے اور جب تک اس جگہ پر قبضہ نہ کر لیں گے چین سے نہ بیٹھیں گے مگر آج وہی شہید گنج موجود ہے وہی ا سکھوں کا اس پر قبضہ ہے اور حرام ہے کہ مسلمانوں میں اتنی بھی حرکت ہوتی ہ جتنی چیونٹی کے چلنے سے ہوتی ہے۔بس بات ختم ہو گئی۔ہو تو آج دیکھو مسلمانوں کی حالت کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے۔وہ زمانہ جو اسلامی تاریخ کا گرا ہوا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔آج مسلمانوں میں اُس زمانہ کے مسلمانوں جیسے اخلاق بھی نہیں ہیں۔خلافت عباسیہ کا آخری زمانہ بڑا دردناک اور بہت تنزل کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔اس وقت خلفائے عباسیہ کی حیثیت قیدیوں کی سی تھی۔کبھی ترک، کبھی سلجوقی اور کبھی گرد اصل حاکم ہوتے تھے۔جس طرح ایک زمانہ میں دہلی کے بادشاہ انگریزوں کے ماتحت ہوتے تھے۔یہ ترک، سلجوقی، یا گرد حاکم جو چاہتے حکم دے دیتے اور کہہ دیتے کہ خلیفہ نے یوں فرمایا ہے جس طرح دہلی کے بادشاہوں کو وظائف ملتے تھے اسی طرح خلفائے عباسیہ کو بغداد میں وظائف ملتے تھے مگر اس زمانہ میں بھی اسلامی غیرت باقی تھی کیونکہ محمد مصطفی صلی ا م کا جو تمام خوبیوں اور محاسن کے منبع ہیں زمانہ قریب تھا۔اس زمانہ میں عیسائیوں نے شام پر حملہ کر کے کچھ علاقہ فتح کر لیا۔عکہ اور اس کے گرد ونواح پر قابض ہو گئے۔اس علاقہ میں مسلمان بھی آباد تھے۔بلکہ سارا علاقہ مسلمان ہو چکا تھا سوائے ان برطانوی، اطالوی، جرمن اور آسٹرین فوجوں کے جو وہاں تھیں۔انہوں نے پاس کے اسلامی علاقہ پر حملہ کیا۔وہاں کوئی مسلمان عورت تھی۔کسی عیسائی سے اس کا جھگڑا ہوا اور عیسائی نے اس کی بے حرمتی کی اور اس کا برقعہ، یا نقاب اتارا گیا اور مارا گیا۔جب اس کی ہتک کی گئی تو