خطبات محمود (جلد 22) — Page 312
1941ء 313 خطبات محمود یہاں لایا ہے۔ وہ ابھی یہ باتیں کر رہے تھے کہ کسی نے باہر سے آواز دی کہ بارش ہو رہی ہے اجازت ہو تو اندر آ جاؤں۔ انہوں نے اجازت دے دی وہ اندر آیا تو اس سے بھی اپانچ نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو اور کہاں جانا ہے۔اس نے کہا کہ میں تو بادشاہ کا ایک حکم لے کر فلاں شہر میں فلاں بزرگ کے پاس جا رہا ہوں انہیں پہلے بادشاہ نے ایک حکم کے ذریعہ طلب کیا تھا اور اب اس نے کہا ہے کہ وہ حکم غلطی سے دیا گیا تھا آپ تکلیف نہ کریں۔ اس سے بھی بڑھ کر میرا اپنا ایک مشاہدہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کس طرح بچوں کی بات بھی پوری کر لیتا ہے۔ ایک دفعہ بارش ہو رہی تھی میں ابھی بچہ ہی تھا اور سخت پیچش لگی ہوئی تھی۔ میں کھڑکی میں کھڑا بارش کا نظارہ دیکھ رہا تھا اور اس سے بہت لذت پا رہا تھا کہ پیٹ میں درد اٹھا۔ نہ معلوم میرے دل میں کیا خیال آیا۔ میں نے کہا یا اللہ ! ابھی اس نظارہ سے میرا دل نہیں بھرا اس لئے تو ایسا کر کہ اب تو یہ نظارہ بند ہو جائے اور جب میں پاخانہ سے واپس آؤں تو پھر ہونے لگے۔ چنانچہ بارش فوراً بند ہو گئی اور جب پندرہ بیس منٹ کے بعد واپس آ کر میں اس کھڑکی میں کھڑا ہوا تو پھر فوراً شروع ہو گئی۔ دیکھو کیا چھوٹی سی خواہش تھی اتنی معمولی کہ اسے کسی اور کے سامنے بیان کرنے سے بھی میں شرماتا۔ مگر میرے خدا نے اسے آسمان پر ٹنا اور پورا کر دیا۔ اسی طرح ہم نے ہزاروں لاکھوں بار اس کے سمیع و بصیر ہونے کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ تو ہیں ثبوت اس کے سَمِيع و بَصِير ہونے کے۔ بھلا کون انسان ایسا ہو سکتا ہے؟ خدا یا خدا کا مثیل ہونے کا دعویٰ کرنے والے کے سامنے کوئی شخص کسی کے کان میں بات کرے تو وہ سن نہیں سکتا بلکہ کہے گا کہ مجھے بھی بتاؤ تم نے کیا کہا۔ پھر خدا بصیر ہے وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ کیا کیا چیز کہاں کہاں چھی ہے۔ اور پھر کوئی چیز جہاں بھی ہے اسے وہیں خوراک پہنچاتا ہے۔ برسات میں لاکھوں کروڑوں کیڑے مکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں مگر وہ سب کو خوراک پہنچاتا ہے۔