خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 311

* 1941 312 خطبات محمود ایک درخواست کرتا اور اسے پکارتا ہے تو وہ آسمان سے اس کے لئے سامان مہیا کر دیتا حالانکہ اس نے کسی کو بھی اپنی خواہش نہیں بتائی ہوتی، وہ صرف ایک ہی ہستی ہے کے سامنے اسے ظاہر کرتا ہے مگر وہ پوری ہو جاتی ہے۔ایک مشہور بزرگ کے متعلق ایک واقعہ ہے کہ بادشاہ کسی دور دراز کے سفر پر اس بزرگ کے شہر سے کئی منزلوں کے فاصلوں پر تھا وہاں ایک وقت وہ غصہ کی حالت میں بیٹھا تھا کہ کسی مخالف نے موقع پا کر اس بزرگ کی شکایت کر دی کہ وہ ہمیشہ آپ کے خلاف منصوبے کرتا رہتا ہے اور بہت سے لوگ اس کے مرید ہیں۔بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ انہیں حاضر کیا جائے۔وہ بیچارے اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے تھے کہ یہ حکم نامہ پہنچ گیا۔وہ بہت حیران ہوئے کہ کیا معاملہ ہے۔کہتے ہیں حکم حاکم مرگِ مفاجات۔چار و ناچار روانہ ہوئے راستہ میں شام کا وقت ہو گیا اور ہر طرف جنگل ہی جنگل تھا اوپر سے بارش اور تیز آندھی آگئی اور وہاں کوئی جائے پناہ نہ تھی سوائے ایک جھونپڑی کے جس میں ایک لولا لنگڑا ایا بج رہتا تھا۔انہوں نے اس سے جھونپڑی میں پناہ لینے کی اجازت مانگی۔جب اس کی اجازت سے جھونپڑی میں بیٹھ گئے تو آپس میں باتیں ہونے لگیں۔اس اپانچ نے کہا کہ میں تو سالوں سے یہیں پڑا ہوں۔میل دو میل کے فاصلہ پر گاؤں ہے وہاں کے لوگ روٹی وغیرہ پہنچا دیتے ہیں اور پھر اس نے اس بزرگ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میرا یہ نام ہے اور فلاں شہر کا رہنے والا ہوں۔بادشاہ کا حکم پہنچا تھا کہ جس حال میں بھی ہو فوراً حاضر ہو جاؤ۔چنانچہ میں چل پڑا۔اس اپانچ نے یہ بات سنی تو کہا اچھا السّلام علیکم میں تو کئی سالوں سے آپ سے ملاقات کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہا تھا۔آپ کی شہرت سنی تھی اور زیارت کی خواہش تھی مگر معذور تھا۔میں تو پاخانہ پیشاب کے لئے بھی نہیں اٹھ سکتا اتنی دور کیسے جا سکتا ؟ ہاں دعا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ زیارت کرا دے۔یہ بادشاہ کے حکم والی بات تو یونہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ کوئی غلطی نکلے گی۔آپ کو خدا تعالیٰ صرف میرے لئے