خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 313

* 1941 314 خطبات محمود کسی درخت کی جڑھ کے نیچے بھڑوں کا چھتہ ہوتا ہے یا کہیں زمین کے نیچے لاکھوں چیونٹیاں ہوتی ہیں مگر خدا تعالیٰ سب کو ان کی جگہ پر ہی خوراک پہنچاتا ہے۔سکتا کیا کوئی انسان خواہ وہ خدا یا خدا کا مثیل ہونے کا مدعی کیوں نہ ہو ایسا بصیر ہو ہے؟ پھر فرمایا لَهُ مَقَالِيدُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ زمین و آسمان کی کُنجیاں اس کے پاس ہیں۔خدائی کے مدعی تو الگ رہے جن کو لوگ افتراء مدعی بنا دیتے ہیں وہ بھی دنیا میں مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کو لوگوں نے خدا بنایا مگر یہود نے انہیں صلیب پر لٹکا دیا۔حضرت امام حسین کو بعض لوگ خدا بناتے ہیں مگر وہ کربلا میں شہید ہوئے۔اس زمانہ میں بہاء اللہ نے دعویٰ کیا اور وہ قید خانہ میں ہی مر گیا۔اور جس شخص کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ بھی نظر بند ہے۔تو یہ لوگ ایسی حالتوں میں سے گزرے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے پاس زمین و آسمان کی کنجیاں ہیں اسے قید کرنا تو در کنار اس کے بندوں کو بھی کوئی قید نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مشکلات کے وقت دوسروں کو بھی دعا کے لئے کہا کرتے تھے۔جب پادری مارٹن کلارک والا مقدمہ تھا تو اس وجہ سے کہ وہ ایک انگریز پادری تھا اور وہ افسر بھی جس کے روبرو مقدمہ پیش تھا انگریز اور پادری منش آدمی تھا۔آپ نے بہت سے لوگوں کو دعا کے لئے کہا۔گھر میں والدہ صاحبہ سے بھی کہا۔میری عمر اس وقت 9، 10 سال کی ہو گی مجھے بھی آپ نے دعا کے لئے کہا۔میں نے اس رات ایک رؤیا دیکھا کہ میں اس گلی سے آ رہا ہوں جو ہمارے گھر کے مشرق کی طرف ہے اور جو آگے مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے گھر کی طرف چلی جاتی ہے۔ہمارے مکان کی پرانی گلی وہی تھی۔میں نے دیکھا کہ میں آ رہا ہوں اور آگے پولیس کے سپاہی کھڑے ہیں وہ مجھے اندر جانے سے روکتے ہیں مگر میں چلا گیا ہوں۔ہمارے مکان میں ایک تہ خانہ ہوا کرتا تھا جو ہمارے دادا صاحب مرحوم نے گرمیوں میں آرام کے لئے بنوایا ہوا تھا اس کی کھڑکیاں گلی میں بھی کھلتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خیال سے کہ بچے اندر جا کر کھیلتے ہیں اور اندھیری