خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 27

1941ء 27 3 خطبات محمود روحانیت میں ترقی حاصل کرنے کا طریق (فرمودہ 31، جنوری 1941ء بمقام لاہور ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ “میری نیت تو قادیان جا کر جمعہ پڑھانے کی تھی مگر گھر سے چونکہ زیادہ بیمار ہو گئے اور کل سے میری کھانسی میں بھی شدت پیدا ہو گئی اس لئے میں نہیں جا سکا لیکن آج میری کھانسی کی جو حالت ہے اس کی وجہ سے یہاں بھی زیادہ دیر تک بلند آواز سے نہیں بول سکتا۔ خصوصاً آج صبح کے وقت تو مجھے اس قسم کا ضعف محسوس ہوتا تھا کہ بعض دفعہ بالکل بیٹھنا بلکہ لیٹنا بھی دوبھر معلوم ہوتا تھا۔ ہماری لاہور کی جماعت اس طرح مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے کہ اسے کسی ایک نظام کے نیچے لانا آسان کام نہیں۔ کسی محلہ میں دس پندرہ آدمی ہیں، کسی میں ہیں، کسی میں پچاس، کسی میں دو چار اور کسی میں ایک ہی ہے اور اس وجہ سے باجماعت نمازوں میں باقاعدگی بہت مشکل ہے۔ گو ایک لحاظ سے مشکل نہیں بھی۔ کیونکہ اگر آدمی ارادہ کر لے تو اس کے پورا کرنے میں زیادہ دقت محسوس نہیں ہوتی۔ مگر اس زمانہ میں لوگ نماز با جماعت کو زیادہ ضروری نہیں سمجھتے۔ رسول کریم صلی اللی سیم کے زمانہ میں یہ حال تھا کہ ایک نابینا حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ يَا رَسُولَ الله ! میں نابینا ہوں لوگوں نے گلیوں میں پتھر رکھے ہوئے ہیں۔ اُس وقت کچے مکان ہوتے تھے اور جس طرح ہمارے ملک میں بھی لوگ کچے مکانوں کے ساتھ ساتھ پتھر وغیرہ رکھ چھوڑتے ہیں تاکہ پرنالہ وغیرہ سے گلیں نہیں عرب صد سر