خطبات محمود (جلد 22) — Page 28
$1941 28 خطبات محمود میں بھی لوگ پتھر وغیرہ رکھ چھوڑتے تھے۔اس نابینا نے عرض کیا کہ رستوں میں پتھر وغیرہ ہوتے ہیں اندھیرے میں دوسرے لوگوں کو بھی ٹھوکریں لگتی ہیں اور ان کے پاؤں بھی زخمی ہو جاتے ہیں اور میں تو نابینا ہوں۔اگر اجازت ہو تو رات کی نمازیں گھر میں ہی پڑھ لیا کروں۔آپ نے فرمایا اچھا اجازت ہے۔مگر جب وہ چلا تو فرمایا اسے بلاؤ اور وہ دوبارہ آیا تو فرمایا تمہارے گھر تک اذان کی آواز پہنچتی ہے یا نہیں؟ اس نے عرض کیا پہنچتی ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ پھر گھر میں پڑھنے کی اجازت نہیں جس طرح بھی ہو مسجد میں آکر باجماعت نماز ادا کیا کرو۔1۔غرض آنحضرت صلی ال ل ل ا ل م نے تو نابینا کے لئے بھی صحت کی حالت میں مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا ضروری قرار دیا ہے مگر اب لوگ اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے۔مگر ساتھ یہ شکایت ضرور کرتے ہیں کہ وہ روحانیت نظر نہیں آتی جو پہلے بزرگوں میں تھی اور جس کا ذکر پہلی کتابوں میں ملتا ہے۔حالانکہ وہ روحانیت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے جب تک وہ کام نہ کئے جائیں جو وہ کرتے تھے۔وہ کثرت سے ذکر الہی کرنا، درود شریف پڑھنا، مساجد میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرنا اور نمازوں کو باجماعت ایسی پابندی سے ادا کرنا کہ جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے تھے۔اب بالکل نہیں۔مثل مشہور ہے کہ ہندوستان میں افغانستان کے ایک بادشاہ وہاں سے بھاگ کر آئے ہوئے تھے۔یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب 2 کا زمانہ تھا۔مہاراجہ صاحب ان کی مدد کرتے تھے تا ان کے ملک میں بھی اثر و نفوذ بڑھ جائے۔چنانچہ وہ یہاں سے مدد لے کر گئے اور پھر وہاں اپنی حکومت قائم کی۔یہاں قیام کے دوران ایک دن مہاراجہ صاحب نے ان سے فرمایا کہ آپ کے افغانستان میں لوگوں کی اولادیں بڑی ہوتی ہیں۔ہمارے ہاں اتنی نہیں ہوتیں اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا کوئی نسخہ ہمیں بھی بتائیں۔بادشاہ نے کہا کہ اس کا جواب میں افغانستان جا کر ہی دے سکتا ہوں۔آپ میرے ساتھ اپنا کوئی آدمی بھیج دیں میں اسے بتا دوں گا۔چنانچہ جب وہ واپس جانے لگے تو مہاراجہ صاحب نے اپنا ایک