خطبات محمود (جلد 22) — Page 260
1941 261 خطبات محمود (اور جسے میں جانتا ہوں) ہمارے گھر میں بیٹھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اجازت لے کر ملنے آیا ہے۔اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے گھر میں کوئی بیمار ہے اور میں نے اس کے متعلق یہ تجویز کی ہے کہ اسے کونین دی جائے۔خواب میں میں نے دیکھا کہ جس جگہ وہ شخص بیٹھا ہے وہ حضرت (اماں جان) کا کمرہ ہے۔وہاں مستورات کوئی نہیں میں کونین کی تلاش میں حضرت اماں جان) کے دالان میں گیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں میرا ایک داماد ، دو بیٹے اور ایک وہ پیغامی شخص بیٹھا ہوا ہے (میں نے دوستوں کو اس پیغامی شخص کا نام بھی بتا دیا تھا مگر اس وقت نام نہیں لیتا) جب میں دالان میں داخل ہوا تو میں نے کونین کی شیشی کو کارنس پر پڑے ہوئے دیکھا۔اس وقت چونکہ حضرت اماں جان) وہاں موجود نہیں اور اپنے گھر میں کسی مریض کے لئے کوئی دوا لے لینے میں کسی اجازت کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی دنیا میں قریبی رشتہ دار معروف طور پر بغیر پوچھے ایسا کر لیا کرتے ہیں اس لئے میں اپنے داماد سے مذاق کے طور پر کہتا ہوں کہ میاں اماں جان کی شیشی میں سے ایک گولی تو کچرا دو۔مطلب یہ تھا کہ اماں جان تو یہاں موجود نہیں تم ان کی شیشی میں سے ایک گولی نکال دو۔میرے اس فقرہ پر وہ پیغامی مسلغ بول پڑا اور کہنے لگا ”جی ہاں یہ چرایا ہی کرتے ہیں۔“ مجھے اس کا یہ فقرہ بہت برا لگا کہ اس نے کیسی ناپسندیدہ بات کی ہے۔یہ بچہ تو تھا نہیں کہ میرے مطلب کو نہ سمجھ سکتا۔جانتا تھا کہ میرا کیا مطلب ہے۔پھر اسے کیا حق تھا کہ ایسا فقرہ استعمال کر سکتا۔میں آنے کی اجازت اس لئے تو نہیں دی گئی تھی کہ ایسی لغو حرکت کرتا۔چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ آپ نے یہ بہت ہی ناپسندیدہ بات کہی ہے۔آپ کو گھر میں آنے کی اجازت اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ اس قسم کے ناشائستہ فقرات استعمال کریں۔اس پر وہ کھڑا ہو گیا اور ایسا معلوم ہوا کہ گویا وہ مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔میرے بچے بھی گھبرا کر کھڑے ہو گئے مگر میرے ادب کی وجہ سے وہ خود آگے نہیں بڑھے۔وہ صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ میں کیا کرتا ہوں۔اس پیغامی مبلغ کی اسے