خطبات محمود (جلد 22) — Page 261
1941 262 خطبات محمود شکل اس وقت ایسی معلوم ہوتی جیسے وہ حملہ کرنا چاہتا ہے اور اس نے ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔اتنے میں میں آگے بڑھا اور اپنی کلائی اس کی کلائی کے سامنے رکھ کر اسے پیچھے ہٹایا ہے۔میرے ہاتھ کا جھٹکا ایسا ہی تھا جیسے اپنے ہاتھ سے کسی کو پیچھے ہٹایا جاتا ہے اس سے زیادہ ہر گز نہ تھا۔اس پیغامی مبلغ کا قد ممکن ہے مجھ سے کچھ چھوٹا ہی ہو۔تاہم میرے جسم اور اس کے جسم میں بظاہر کوئی زیادہ فرق نہیں مگر جب میں نے اسے جھٹکا دیا تو اس وقت وہ مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے موم کی گڑیا ہوتی ہے۔جھٹکے سے یکدم زمین پر جا پڑا اور اس کا قد بالکل چھوٹا سا ہو گیا اور وہ میری طرف اس طرح پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھنے لگا گویا وہ سمجھتا ہے کہ میں اسے مار ڈالوں گا۔میرے بچے بھی یہ نظارہ دیکھ کر گھبرا گئے ہیں کیونکہ یہ بات میری عادت کے خلاف تھی اور وہ حیران ہیں کہ میں اس پر سختی کیوں کرنا چاہتا ہوں۔حالانکہ میرا ارادہ اس کو کوئی سزا دینے کا نہیں۔صرف میں حیرت سے اس کی حالت کو دیکھ رہا ہوں کہ کس طرح گڑیا کی طرح بن کر زمین پر چت لیٹ گیا ہے۔اس وقت میں نے اسے کہا کہ میں تمہیں کچھ نہیں کہتا تم میرے گھر سے ابھی نکل جاؤ چنانچہ وہ گھر نکل گیا۔اتنے میں خواب میں ہی نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور میں نماز پڑھانے کے لئے باہر جانے لگتا ہوں کہ میاں بشیر احمد صاحب گھبرائے ہوئے مکان کے اندر داخل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں چوک میں کچھ پیغامی جمع ہیں اور وہ شور مچا رہے ہیں کہ فلاں شخص پر انہوں نے سختی کی ہے۔اب ہم ان پر نالش کریں گے۔نہیں تو اس کا ازالہ کیا جائے اور اگر یہ ازالہ کے لئے کچھ اور نہیں کر سکتے تو صرف اتنا کہہ دیں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔اس وقت میاں بشیر احمد صاحب کی یہ رائے معلوم ہوتی ہے کہ کیا حرج ہے۔اگر یہ الفاظ کہہ دیئے جائیں مگر میں کہتا ہوں یہ بالکل غلط ہے۔جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔اس شخص نے ہمارے گھر پر آکر ایک بے ہودہ حرکت کی تھی اور وہ اس بے ہودگی کا خود ذمہ دار ہے۔وہ حملہ کی نیت سے آگے بڑھا اس پر میں نے اسے معمولی جھٹکا دیا جس پر وہ چت