خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 258

1941 ء 259 خطبات محمود یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ ہم انہیں مخلص سمجھتے ہیں اور جب ہم ان سے حسن سلوک کرتے ہیں تو وہ اپنی مجالس میں ہنس ہنس کر کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو کیسا چکمہ دیا کیسا الو بنایا۔ گویا وہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو الو بنایا۔ حالانکہ اتو وہ آپ بن رہے ہوتے ہیں ہم تو اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے ان پر رحم کرتے ہیں مگر وہ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو الو بنایا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا طریق بھی یہی ہے کہ وہ باوجود لوگوں کی مخالفت کے ان پر رحم کرتا چلا جاتا ہے۔ ابو جہل کو دیکھ لو وہ کتنا شدید دشمن تھا مگر اللہ تعالیٰ آخر اسے کھانا دیتا تھا یا نہیں؟ اسی طرح عتبہ، شیبہ اور ابو لہب وغیرہ اسلام کے شدید مخالف تھے مگر اللہ تعالیٰ انہیں کھانا دیتا تھا۔ اسی طرح ہم بھی منافقین پر رحم کرتے اور ان سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ مگر وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو خوب چکمہ دیا۔ حالانکہ جیسے خدا نے ابو جہل، عتبہ اور شیبہ کو کھانا دیا۔ جس طرح خدا نے فرعون کو بادشاہ بنا دیا اسی طرح ہم ان منافقوں پر رحم کرتے ہیں مگر وہ اپنی تنگ نظری اور حماقت کی وجہ سے اپنی مجالس میں یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ کیسا اتو بنایا، یہ تو ہمیں مخلص سمجھتے ہیں حالانکہ ہم ان سے رحم کا سلوک کر رہے ہوتے اور کبھی اس لئے پردہ پوشی سے کام لیتے ہیں کہ شاید خدا تعالیٰ انہیں کل جرآت دے دے اور وہ ہمارے بھائی بن جائیں۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے کل کو ہمارا بھائی بننا ہے تو آج ہم انہیں کیوں ذلیل کریں۔ جس نے کل ہمارا بھائی بن جانا ہے اس کے متعلق ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی عزت کو مناسب حد تک قائم رکھیں تاکہ کل اگر وہ ہمارا بھائی بنے تو معزز بھائی بنے۔ اسی طرح اس حسن سلوک میں اور کئی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ بہر بہرہ حال نہ ساری جماعت، نہ جماعت کا کا بیشتر جماعت کا معتد بہ حصہ کمزور ہے۔ کوئی نوجوان سزا برداشت نہ کر کے پیغام بلڈ نگس میں چلا گیا اور اس نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ قادیان میں ظلم ہو رہا ہے وہاں اپنا مشن کھولیں سب لوگ آپ کی امداد کریں گے۔ تو اس کو دیکھ کر یا بعض اور حصہ اور نہ