خطبات محمود (جلد 22) — Page 257
1941 258 خطبات محمود خاموش ہو گئے اور اب تک وہ اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔اصل بات یہ ہے کہ میں نے تو صرف 9 منافق دیکھے تھے مگر ہمارے رعب کی وجہ سے ہمارے 9 منافق بھی انہیں پانچ سو نظر آتے ہیں اور یہ بالکل وہی بات ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جب کلام اُترتا ہے اور جنات اسے سنتے ہیں تو وہ اس میں اور کئی جھوٹی باتیں ملا لیتے اور لوگوں کو دھوکا و فریب میں مبتلا کرتے ہیں۔چنانچہ بعض حدیثوں میں تو آتا ہے کہ وہ سو سو گنا جھوٹ ملاتے ہیں۔بہر حال قادیان میں پانچ سو منافقین کا ہونا تو بالکل غلط ہے۔لیکن اس میں کیا شبہ ہے کہ کچھ نہ کچھ منافق قادیان میں موجود ہیں اور ہم ان میں سے بعض کو جانتے بھی ہیں۔بعض منافق تو آہستہ آہستہ نکل جاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کی جگہ کچھ اور کمزور لوگ آ جاتے ہیں۔اسی طرح کبھی کسی کو ابتلاء آ جاتا ہے اور کبھی کسی کو۔رسول کریم صلی الیم کے زمانہ میں بھی اس قسم کے لوگ موجود تھے اور وہ شرارتیں کیا کرتے تھے۔پس ایسے منافقین کا ہم میں پایا جانا ہماری کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ کے صحابہ سے ہماری مشابہت کا ایک اور ثبوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام رسول کریم صلی الی یوم کے مشابہ تھے اور آپ کی جماعت رسول کریم صلی ایم کی جماعت کے مشابہہ ہے۔پس ہماری جماعت میں بعض منافقین کا پایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری جماعت رسول کریم صلی علیم کی جماعت سے مشابہت رکھتی ہے۔یہ خیال کرنا کہ اس قسم کے لوگوں کی وجہ سے غیر مبائعین کو قادیان میں اپنا مشن کھولنے کی جرات ہوئی ہے صحیح نہیں۔کیونکہ ایسے لوگ بہت ہی قلیل ہیں اور پھر ہم ان میں بعض کو جانتے بھی ہیں۔یہ منافق اپنے ذہن میں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی نہیں جانتا حالانکہ ہم انہیں خوب جانتے ہیں۔لیکن ہم ان پر رحم کرتے اور انہیں کچھ نہیں کہتے۔بلکہ بعض دفعہ تو ہم ان سے مہربانی کا سلوک کرتے اور ان مصیبت کے وقت ان کے کام آتے ہیں۔اس خیال سے کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھول دے اور انہیں ہدایت نصیب ہو جائے مگر وہ ہماری مہربانی اور نیک سلوک سے ނ