خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 246

1941 ء 247 خطبات محمود ایک سکھ اخبار نے بارہ سال کی ایک پرانی تحریر اس رنگ میں شائع کی کہ گویا یہ کوئی مخفی سرکلر ہے جو نظارت اعلیٰ کی طرف سے جماعتوں کو بھیجا گیا ہے اور اب دوسرے اخبار بھی اسے اس رنگ میں شائع کر رہے ہیں کہ گویا جماعت احمدیہ کو سکھوں کے خلاف مسلح کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ بات ہی حماقت ہے۔ دینی نقطہ نگاہ کو جانے دو کیونکہ سکھ تو یہ نہیں مانتے کہ ایک مومن سو پر غالب آ سکتا ہے وہ تو صرف ظاہری حالات کو ہی دیکھتے ہیں اور وہ شور بھی اسی لئے مچا رہے ہیں کہ سمجھتے ہیں ان کے خلاف دنیوی تیاری کی جا رہی ہے لیکن وہ سوچیں تو سہی کہ تیس لاکھ قوم کا چند ہزار آدمی مقابلہ کر کیسے سکتے ہیں؟ اور تیس لاکھ بھی ایسے جو مال و دولت کے لحاظ سے، زمین کی ملکیت کے لحاظ سے اور طاقت کے لحاظ سے ان چند ہزار سے ہزاروں گنا زیادہ ہیں۔ کیا کوئی عقلمند یہ سمجھ سکتا ہے کہ چند ہزار کی چھوٹی سی جماعت دنیوی سامانوں کے ساتھ ایسی تیس لاکھ قوم سے لڑ سکتی ہے جس کے پاس کئی ریاستیں ہیں اور دولت ہے۔ روحانی نقطہ نگاہ علیحدہ ہے اسے تو جانے دو۔بے شک روحانی لحاظ سے تو ایک آدمی ساری دنیا سے بھی لڑ سکتا ہے مگر یہاں تو دنیوی سامانوں سے جنگ کا سوال ہے۔ جب روحانیت کے ساتھ مقابلہ کا سوال ہو اس وقت اخبار کیا کر سکتے ہیں ؟ ایسے وقت میں تو حکومتیں بھی کچھ نہیں کر سکتیں۔ چہ جائیکہ اخباری پروپیگنڈا سے کچھ ہو سکے۔ مگر یہاں تو دنیوی لحاظ سے لڑائی کا سوال ہے اور کوئی عقلمند یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ دُنیوی لحاظ سے احمد یہ جماعت سکھوں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ سکھوں کی آبادی تیس لاکھ ہے۔ ان کی پنجاب میں چھ سات ریاستیں بھی ہیں، ہماری نسبت لاکھوں گنا زیادہ دولت ان کے پاس ہے اور زمینیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ اور ان حالات میں سکھوں کا یہ شور مچانا کہ گویا احمدی ان پر حملہ کرنے والے ہیں ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی بڑا پہلوان ایک نوزائیدہ بچہ کے متعلق کہے کہ یہ مجھے قتل کر دے گا۔ ظاہر ہے کہ ایسے پہلوان کو ہر شخص پاگل کہے گا۔ اسی طرح جو شخص یہ کہتا ہے کہ جماعت احمد یہ سکھوں پر حملہ کرنے والی ہے وہ بھی عقلمند نہیں کہلا سکتی۔