خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 245

1941 246 خطبات محمود حصہ لینا شروع کیا جب تک تو درباری ایسی باتیں کرتے رہے پیر صاحب چپ رہے مگر جب نواب صاحب نے حصہ لیا تو آپ جلال میں آ گئے۔آپ نواب صاحب کے پیر تھے اس لئے نواب صاحب ان کی بہت عزت کرتے تھے۔آپ نے فرمایا کہ میں تو حیران ہوں کہ تم لوگ کس بات پر ہنستے ہو ؟ کیا اس پر کہ اسلام ہار گیا اور عیسائیت جیت گئی؟ تم لوگوں کو غیرت سے کام لینا چاہئے۔مرزا صاحب نے آٹھم سے مقابلہ محمد رسول اللہ صلی اللی علم کی عزت کو قائم کرنے کے لئے کیا تھا یا اپنی عزت کے لئے؟ پھر آپ نے بڑے جلال میں آکر فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ آتھم زندہ ہے السلام مجھے تو اس کی لاش سامنے پڑی دکھائی دیتی ہے۔2 آخر حضرت مسیح موعود علیہ کی پیشگوئی کے ماتحت وہ مر بھی گیا۔پیر صاحب مرحوم نے ان لوگوں کو یہ سبق دیا کہ جب غیرت کا سوال ہو تو انسان کو چھوٹی چھوٹی دشمنیوں کو بھلا دینا چاہئے اور اس سے بھی بڑھ کر جب کوئی ملکی سوال در پیش ہو تو ہندوستان اور سکھ عیسائی کا سوال بھی پیدا نہیں ہونا چاہئے۔یہ وقت ہندوستان کے لئے بہت نازک قسمتی یا ہے بد خوش قسمتی سے سب ملک ہندوستان کو سونے کی چڑیا سمجھتے ہیں۔ہمیں تو یہاں وہ سونا کہیں اور - نظر نہیں آتا لیکن دوسرے ملک یہ سمجھتے ہیں کہ جو دولت یہاں ہے وہ نہیں اس لئے مختلف قومیں چاہتی ہیں کہ اس پر قبضہ کر لیں۔جاپان، روس، اٹلی اور جرمنی ہر ایک چاہتا ہے کہ یہ ملک اس کے قبضہ میں آ جائے اور اس کے وسیع ذرائع اسے مل جائیں اور قدرتی طور پر جنگ کے موقع پر ان کی نظریں اور بھی زیادہ حرص اور لالچ کی وجہ سے اس ملک پر لگی ہوئی ہیں۔ایسے وقت میں ہندوستانیوں کے لئے بہت بڑے خطرہ کا مقام ہے اور انہیں سوچنا چاہئے کہ اپنی، اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی عزت کو بچانے کے لئے انہیں کیا کرنا چاہئے۔چاہئے تو یہ تھا کہ ایسے نازک وقت میں سب مل کر ملک کی حفاظت کی تدابیر کرتے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ کئی لوگ ایسے ہیں جو جائز و ناجائز باتوں سے خواہ مخواہ مختلف اقوام میں فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔مثلاً آجکل ہی ایک فتنہ پیدا کیا جا رہا ہے۔