خطبات محمود (جلد 22) — Page 247
خطبات محمود 248 1941 یہ تحریر اپنی ذات میں بھی ایسی نہ تھی کہ اس کی بناء پر سکھ اس قدر شور مچاتے۔ان کو یہ تو سمجھنا چاہئے تھا کہ کیا یہ بات ممکن بھی ہے۔یہ تو شرارت ہے جو ان کو بے وقوف بنانے کے لئے کی گئی ہے۔گزشتہ مردم شماری کی رُو سے پنجاب میں ہماری تعداد صرف 56 ہزار تھی اور سکھ قریباً تیس لاکھ تھے۔پھر ہمارے پاس تو دس گاؤں کی بھی کوئی ریاست نہیں اور ان کی کئی بڑی بڑی ریاستیں ہیں۔پٹیالہ، نابھ ، جیند، کپور تھلہ ، فرید کوٹ اور بعض اور بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں۔ان ریاستوں کے پاس فوجیں، توپ خانے اور ہوائی جہاز بھی ہیں۔پھر اس ملک میں انگریزوں کی حکومت ہے اور ان کے پاس بھی بہت کچھ سامانِ جنگ اور طاقت ہے۔بہت سے سکھ فوج میں ملازم ہیں۔اندرونی تنظیم ان کی مکمل ہے اور وہ دو کروڑ مسلمانوں کو آئے دن دھمکاتے رہتے ہیں۔پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ 56 ہزار احمدی ان پر حملہ کریں۔یہ تو ایسی بات ہے کہ اگر کوئی ان سے کہتا تو ان کو اسے یہ کہنا چاہئے تھا کہ ہم ایسے بے وقوف نہیں کہ ایسی باتوں کو درست سمجھ سکیں۔ان کو تو ایسے شخص سے لڑنا چاہئے تھا کہ تم ہمیں بے وقوف بنا رہے ہو اور ذلیل کرنا چاہتے ہو۔تو عبد الرحمان مصری کی کارستانی ہے کہ اس نے ایک ایسی تحریر کو لے کر جس لی کوئی حیثیت ہیں خواہ مخواہ لوگوں کو ورغلایا اور شور مچایا لیکن سکھوں اعتبار نہ کرنا چاہئے تھا اور سمجھنا چاہئے تھا کہ یہ شخص ان کا نادان دوست ہے۔اگر ہے کہ 56 ہزار احمدی تیس لاکھ ایسی قوم پر جس کے پاس کئی ریاستیں، مال و دولت اور سامان ہے حملہ کر سکتی ہے تو سکھوں کے لئے تو واقعی بہت خطرہ کا مقام ہے۔حیرت تو یہ ہے کہ بعض مسلم اخبار سکھوں سے بھی زیادہ شور مچا رہے ہیں۔ان کو سوچنا چاہئے تھا کہ یہ تو بارہ سال کی پرانی تحریر ہے اس بارہ سال کے عرصہ میں احمدیوں نے کتنی چڑھائیاں سکھوں پر کی ہیں۔اگر ہمارا یہ ارادہ ہوتا تو 1928ء سے لے کر آج تک اس کے کوئی آثار تو ظاہر ہوتے اور اب تک کئی چڑھائیاں سکھوں پر ہو چکی ہوتیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج سکھوں کے ساتھ واقعہ کو اس پر