خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 232

1941 233 خطبات محمود ہمارے وفد میں شامل ہونے کی اجازت دیں۔میں نے کہا میں اجازت تو دے دوں مگر میں ڈرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے میمورنڈم میں تو کچھ اور لکھا ہوا ہو اور آپ کے میمورنڈم میں کچھ اور لکھا ہوا ہو اور جب یہ دونوں طرف سے وفد میں پیش ہوں تو وزیر ہند کہیں کہ یہ عجیب آدمی ہیں کہ فلاں وفد میں بھی شامل ہو کر آ گئے ہیں اور اس وفد میں بھی شریک ہو گئے ہیں۔پس میں نے کہا اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ وہ آپ کے وفد میں شریک ہوں تو آپ اپنا میمورنڈم مجھے دیں تاکہ میں دیکھ لوں کہ اس میں کوئی بات ہمارے میمورنڈم کے خلاف تو نہیں۔چنانچہ انہوں نے میمورنڈم دیا اور میں نے پڑھنے کے بعد انہیں کہا کہ اس میں ایک دو باتیں ہمارے خلاف ہیں ان کو کاٹ دیں تو میں انہیں شامل ہونے کی اجازت دے سکتا ہوں۔انہوں نے ان باتوں کو کاٹ دیا اور میں نے انہیں شمولیت کی اجازت دے دی۔تو اگر کسی پارٹی کی پالیسی ہماری جماعت کی پالیسی کے خلاف ہو اور پھر بھی ہمارے آدمی اس میں شامل ہوں تو یہ بات عقل کے بالکل خلاف ہو گی مثلاً ایک طرف تو وہ جماعت احمدیہ میں داخل ہوں جس کا مقصد اور ہے اور دوسری طرف وہ ایک ایسی سیاسی جماعت میں شامل ہوں جس کا مقصد احمدیت سے ٹکراتا ہو تو ٹکراتا ہو تو ہر شخص انہیں احمق اور بیوقوف قرار دے گا پس ان حالات میں ہمارے لئے ضروری تھا کہ ہم ایسا انتظام کرتے کہ ہمیں دونوں جماعتوں کی پالیسی کے متعلق صحیح علم حاصل ہو جاتا۔اگر ہمیں یقین ہو جاتا کہ یہ دونوں جماعتیں اسلام اور احمدیت کے اصول کے خلاف نہیں تو ہم اپنی جماعت کے دوستوں سے کہہ سکتے تھے کہ وہ جس میں چاہیں شامل ہو جائیں۔چاہیں تو مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں اور چاہیں تو کانگرس میں شامل ہو جائیں اور اگر ایک جماعت کے مقاصد ہمارے مطابق ہوتے اور دوسری کے نہ تے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ فلاں جماعت میں تو تمہیں شامل ہونے کی اجازت ہے مگر فلاں جماعت میں شامل ہونے کی اجازت نہیں کیونکہ اس کے مقاصد ہمارے مقاصد کے خلاف ہیں اور اگر دونوں جماعتوں کے مقاصد ہمارے خلاف ہوتے تو