خطبات محمود (جلد 22) — Page 231
1941 232 خطبات محمود وہ اور بعض نے غور و فکر سے یہ نتیجہ نکالا کہ کانگرس زیادہ بہتر ہے۔مذہبی جماعت ہونے کے لحاظ سے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ انفرادی حیثیت میں کانگرس میں شامل ہوں یا مسلم لیگ میں شامل ہوں لیکن ایک سوال تھا جو ہمارے سامنے تھا اور وہ یہ کہ آیا کانگرس اور مسلم لیگ میں کوئی ایسی بات تو نہیں جو مذہبی لحاظ سے ہمارے اصول کے خلاف ہو اور اگر ہو تو ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی جماعت کے افراد کو ایسی جماعت میں شامل ہونے سے منع کر دیں اور کہہ دیں کہ کانگرس یا مسلم لیگ میں شامل نہ ہوں کیونکہ اس کے فلاں اصول ہمارے فلاں مذہبی اصول کے خلاف ہیں۔پس یہ جو ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی جماعت کے کسی فرد کو کسی ایسی سیاسی جماعت میں شامل نہ ہونے دیں جس کے اصول ہمارے اصول سے ٹکراتے ہوں۔اس حق سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانے کے لئے ہم نے یہ سوال اپنی مجلس شوریٰ میں پیش کر دیا تاکہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور ہو جائے۔اور ہم اپنی جماعت کے افراد کو بتا سکیں کہ فلاں جماعت میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں اور فلاں جماعت میں شامل ہونے میں حرج ہے۔مجھے یاد ہے مسٹر مانٹیگو وزیر وزیر ہند جب ہندوستان میں آئے تو اس وقت ایک بہت بڑے احمدی زمیندار ہماری جماعت کی طرف سے ایک وفد میں پیش ہوئے۔چاہا اسی طرح زمینداروں نے بھی اپنا ایک وفد بھجوانے کی تجویز کی اور انہوں نے وہ زمیندار احمدی بھی ان کے وفد میں شامل ہو جائیں۔انہوں نے چونکہ بعض فوجی خدمات کی ہوئی تھیں اس لئے زمیندار دوست چاہتے تھے کہ انہیں اپنے وفد میں شامل کریں۔وہ تھے تو ان پڑھ مگر ان میں اخلاص بہت تھا۔جب زمینداروں نے ان سے اپنے وفد میں شامل ہونے کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ تک مجھے خلیفة المسیح اجازت نہ دیں میں اس وفد میں شامل نہیں ہو سکتا زمینداروں کے وفد کے سیکرٹری جو آجکل پنجاب میں بہت بڑی حیثیت (میں ان کا نام نہیں لیتا) میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ راجہ صاحب کو چنانچہ