خطبات محمود (جلد 22) — Page 214
1941 215 خطبات محمود تو اللہ تعالیٰ کے اس کرم کی بھی پہلے کوئی مثال نہیں ملے گی۔کیونکہ اتنے بڑے غضب کے بعد دنیا کو بچا لینا اسی رحیم کریم خدا کا ہی کام ہو سکتا ہے۔کسی انسان کی طاقت میں یہ بات نہیں کہ وہ اس عذاب کو دور کر سکے۔پس دعائیں کرو اور بہت دعائیں کرو تا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے تم وارث بنو اوراس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ جو شخص دوسروں پر رحم کرتا ہے اس پر بھی رحم کیا جاتا ہے۔اور جو شخص دوسروں کی طرف سے اپنے دل کو سخت کر لیتا ہے اس کی طرف سے بھی خدا اور اس کے فرشتے اپنے دل کو سخت کر لیتے ہیں۔اس کے بعد میں اس امر کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ مجلس شوریٰ کے موقع پر میں نے بیان کیا تھا اس جنگ میں ہماری جماعت کے بھی بہت سے دوست شامل ہیں۔میں ابھی جمعہ کے لئے آ رہا تھا کہ مجھے ایک احمدی دوست کا جو اسی جنگ میں ایک مقام پر گیا ہوا ہے تار ملا کہ میرے لئے دعا کی جائے۔مجھے اس تار کو پڑھ کر خیال آیا کہ ہمارے وہ احمدی بھائی جو ہزاروں ہزار میل دور اس خطرناک جنگ میں شامل ہیں۔کس طرح یہ امیدیں باندھے ہوئے ہوں گے کہ رات اور دن ان کی کامیابی کے لئے دعائیں کی جاتی ہوں گی مگر تم، ہاں تم اپنے دلوں میں غور کرو کہ کیا تم ان کی امید وں کو پورا کر رہے ہو، تم ان کی حُسنِ ظنیوں کو پورا کر رہے ہو اور کیا تم واقعی ان کے لئے دن اور رات ایک اضطراب کے عالم میں دعائیں مانگتے رہتے ہو؟ وہ ان مقامات پر ہیں جہاں چاروں طرف بم برس رہے ہیں، جہاں ہزاروں آدمی ایک ایک دن میں ہلاک ہو رہے ہیں اور جہاں بعض دفعہ ایک ایک بم ایسا گرتا ہے کہ وہ بچھتر پچھتر اور سو سو گز زمین کو اڑا کر لے جاتا ہے۔ایسے خطرہ کے مقام پر گیا ہوا ہر احمدی تم میں سے ہر کے متعلق یہ امید رکھتا ہے کہ تم قادیان میں بیٹھے ہوئے اس کے متعلق دعائیں کر رہے ہو گے۔پھر کیسا بد قسمت ہے وہ انسان کہ جس کے اپنے بھائی جنگ میں شامل ہوں اور پھر بھی وہ لوگوں کی موت پر خوش ہو پھر بھی وہ اس بربادی پر ہنسے اور