خطبات محمود (جلد 22) — Page 213
1941 214 خطبات محمود تھے اور کبھی باہر آتے تھے۔پھر ہم جو آپ کے متبعین ہیں کیا اتنے بڑے غضب کے نازل ہونے پر جو فی الواقع نازل ہو چکا ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے خوش ہو سکتے ہیں؟ اور کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس کی کیا پرواہ ہے۔یہ عذاب دوسروں پر ہے ہم پر تو نہیں۔کیا جس گھر میں آگ لگی ہوئی ہو اس کا ساکن اس بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ آگ ابھی فلاں کمرہ میں ہے فلاں کمرہ میں نہیں۔پھر ہم کس طرح مطمئن ہو سکتے ہیں جبکہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے ایک حصہ پر ایسا غضب نازل ہو رہا ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔اس عذاب کی بالکل وہی کیفیت ہے جو قرآن کریم نے اس جگہ بیان فرمائی ہے جہاں عیسائیوں کے مائدہ مانگنے کا ذکر ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ فرمایا تھا کہ اگر ان لوگوں نے میرے مائدہ کی ناقدری کی تو میں ان پر ایسا عذاب نازل کروں گا جس کی مثال روئے زمین پر اس سے پہلے کبھی نظر نہ آئی ہو گی۔3 یہ عذاب آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور دنیا اس بات کا اقرار کر رہی ہے کہ اس سے ، پہلے دنیا پر اتنی بڑی تباہی کبھی نہیں آئی۔نے قرآن کریم کی صداقت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہی الفاظ جو قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں آج عیسائی قریباً روزانہ استعمال کرتے اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ دنیا پر وہ عذاب نازل ہے جس کی نظیر تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے اور یہ ایک بار نہیں، دو بار نہیں، تین بار نہیں، ہزاروں بار اعتراف کیا جا چکا ہے۔پھر صرف آسٹریلیا میں نہیں، صرف امریکہ میں نہیں، صرف کینیڈا میں نہیں، بلکہ ہر ملک میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ آج زمین پر خدا تعالیٰ کا وہ قہر اترا ہوا ہے اور وہ تباہی اور بربادی ہو رہی ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔پس ایسے موقع پر بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اور اگلے چھ ماہ نہایت خطرناک ہیں۔اگر دنیا اگلے چھ ماہ کی ہولناک تباہی سے بچ جائے تو سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا کرم فرمایا کہ جس کی کوئی نظیر نہیں۔جس طرح اس عذاب کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔اسی طرح اگر اگلے چھ ماہ خیریت سے گزر جائیں