خطبات محمود (جلد 22) — Page 215
1941 216 خطبات محمود پھر بھی یہ کہتے ہوئے اسے شرم نہ آئے کہ خوب مزا آیا۔کیا ایسے شخص سے زیادہ سنگدل اور قسی القلب کوئی اور انسان ہو سکتا ہے؟ اور کیا اس سے بھی زیادہ خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے والا کوئی اور ہو سکتا ہے؟ پس ان کی اس حُسن طنی کو دیکھو، ان کے اس اعتماد کو دیکھو، ان کے اس یقین کو دیکھو اور اپنے میں سے بعض کے اس ظالمانہ فعل کو دیکھو کہ جب ہزاروں ہزار میل دور ایک شخص اپنی حفاظت کا ذریعہ ان کی دعاؤں کو سمجھ رہا ہے تو وہ ایسے افعال کر رہے ہوں جو ان کی پوری بے دردی اور ظالمانہ رویہ کو ظاہر کرنے والے ہوں۔آجکل تو ہمارے دلوں میں ایک لمحہ کے لئے بھی چین نہیں ہونا چاہئے اور ہر وقت دعائیں ہماری زبان پر جاری رہنی چاہئیں۔کجا یہ کہ ہم ہلاک ہونے والوں کی ہلاکت کی خبریں مزے لے لے کر پڑھیں اور اپنی مجلسوں میں کہیں کہ خوب ہوا۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ جب میں رات کو لیٹتا ہوں تو میرا دل دھڑکنے اور ر گھنٹوں میری نیند اڑ جاتی ہے اور میں دعائیں کرنے لگ جاتا ہوں۔مگر باوجود ان دعاؤں کے میرا دل تسلی نہیں پاتا کہ میں خدا کے حضور سرخرو ہو گیا ہوں اور مجھے کبھی اطمینان نہیں ہوا کہ اس خطرہ اور مصیبت میں مبتلا بھائیوں کے جاتا ہے لئے میں نے ویسی ہی دعائیں کی ہیں جیسی مجھ سے امید کی جا سکتی تھی۔اس کے بعد میں ایک اور شکایت کی طرف توجہ کرتا ہوں جو آج ہی میرے سامنے پیش ہوئی ہے اور وہ یہ کہ محلہ مسجد فضل میں بالعموم لوگ نماز باجماعت کے تارک ہیں۔(یہ محلہ دار الفضل نہیں بلکہ وہ محلہ ہے جسے مقامی لوگ ارائیوں کا محلہ کہتے ہیں) اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نماز میں کیوں شامل نہیں ہوتے تو کوئی کہتا ہے کہ میری فلاں سے لڑائی ہے کوئی کہتا ہے مجھے فلاں نے کھانے کی پرچی نہیں دی تھی۔غرض کوئی کسی وجہ سے اور کوئی کسی وجہ سے مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتا۔اگر یہ شکایت صحیح ہے تو مجھے مسجد فضل کے حلقہ کے احمدیوں پر نہایت ہی تعجب ہے۔نماز اور پھر باجماعت نماز اللہ تعالیٰ کے خاص