خطبات محمود (جلد 22) — Page 165
خطبات محمود نادانی۔ہے۔166 1941 آنحضرت صلى ال عالم اپنی ازواج مطہرات کے ہاں روز جاتے تھے مگر کیا دوسرے لوگوں کے ہاں بھی روز جاتے تھے ؟ جس طرح دوسرے لوگ بیٹوں کی خدمت کرتے ہیں میرا بھی فرض ہے کہ اپنے بیٹوں کی خدمت کروں اور اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں۔قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک صلہ رحمی میں داخل ہے جس کا اسلام نے خاص طور پر حکم دیا ہے اور اس لئے میں مجبور ہوں کہ ان کو مستثنیٰ رکھوں۔جو لوگ مجھے دعوت دیتے ہیں وہ کھانا کھلانے کے لئے ہی دیتے ہیں مجھ سے کچھ مانگتے تو نہیں۔زیادہ نہیں تو مجھ پر دو تین آنے تو ضرور خرچ ہوتے ہوں گے مگر ان کو یہ خرچ کرنے میں زیادہ راحت ملتی ہے اور نہ کرنے میں تکلیف۔اب اگر کوئی یہ شور مچانے لگے کہ بڑا اندھیر ہو گیا آپ نے فلاں شخص کی دعوت منظور کر کے اس کا خرچ زیادہ کرا دیا تو یہ اس کی حماقت ہو گی۔یہاں ایک غریب احمدی تھا وہ سالہا سال میرے پیچھے پڑا رہا کہ میری دعوت منظور کریں اور میں ٹالتا رہاتا اسے تکلیف نہ ہو۔مگر پھر میں نے محسوس کیا کہ اسے یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس کی غربت کی وجہ سے میں انکار کرتا ہوں اس لئے میں مان گیا۔اس کے مکان پر گیا اس بے چارے کے ہاں کوئی سامان وغیرہ بھی نہ تھا چٹائی تھی جس اس نے مجھے بٹھا دیا۔میرے اکیلے کی دعوت تھی۔اس نے ایک کٹورے میں سالن لا کر میرے آگے رکھ دیا۔میں جب کھا کر باہر نکلا تو دروازہ پر ہی ایک دوست مل گئے ان کو اعتراض کرنے کی بہت عادت تھی کہنے لگے کہ آپ ایسے غریبوں کی دعوت بھی قبول کر لیتے ہیں۔ان کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے اس غریب پر خواہ مخواہ بوجھ ڈالا ہے حالانکہ وہ کئی سال پیچھے پڑا رہا اور میں ٹالتا رہا اور پھر جب اس کے اندر احساس پیدا ہوا کہ غریب سمجھ کر میں نہیں مانتا تو میں اس کے ہاں گیا مگر باہر نکلتے ہی اس دوسرے دوست نے اعتراض کر دیا کہ آپ ایسے غریبوں کی دعوت بھی مان لیتے ہیں۔میں نے کہا کہ ہاں ماننی پڑ ہی جاتی ہے۔