خطبات محمود (جلد 22) — Page 166
1941 167 خطبات محمود تو دیکھو دونوں کے نقطہ نگاہ میں کتنا اختلاف ہے۔ایک میرے نہ ماننے سے تکلیف محسوس کرتا تھا اور دوسرے نے ماننے کو قابل اعتراض سمجھ لیا اور میں دونوں کو تو خوش نہیں کر سکتا تھا ایک کو ہی کر سکتا تھا۔تو ایسے اعتراضات عقل کے خلاف ہیں۔انسانوں کے ساتھ انسانوں کے تعلقات ہوتے ہی ہیں اور ناظر بھی انسان ہیں۔ناظر بنتے ہی کوئی شخص جانور تو نہیں بن جاتا۔ہاں اگر یہ ثابت ہو کہ ناظر یہاں بیٹھتے ہیں لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں کہ آؤ ہمارے پیر دباؤ تو اعتراض کی بات ہو سکتی ہے۔مگر کسی ناظر کا ایک مرتبہ کسی ایسے شخص کو جس پر ممکن ہے اس کے احسان ہوں ایسا کہنا کوئی شکایت کی بات نہیں۔وہ دوسری شکایت یہ ہے کہ اس ناظر نے فلاں کلرک کے متعلق کہا کہ خود کاغذ لے کر آئے اور میرے سامنے خود پیش کرے۔اب تو یہ بات ظاہر ہو چکی ہے اس لئے میں بتا دیتا ہوں کہ یہ جھگڑا میرے تک آ چکا ہے اور اس کا فیصلہ میں نے ہی کیا تھا۔میرے نزدیک کسی کلرک کو یہ حق نہیں کہ وہ کہ ناظر چپڑاسی بھیج کر کاغذ منگوا لیا کرے میں خود لے جا کر پیش نہیں کروں گا۔بعض دفعہ ان کاغذات میں سے کوئی بات سمجھنے والی ہوتی ہے اور کلرک جس نے وہ کام کیا ہو وہی سمجھا سکتا ہے۔پس یہ بات عقل کے بالکل خلاف ہے کہ کاغذات چپڑاسی لے جائے اور کلرک خود پیش نہ کرے۔بعض دفعہ میرے پاس بعض کاغذات آئے ہیں میں کہتا ہوں کہ ناظر اعلیٰ خود پیش کریں کیونکہ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ناظر کو بھی کوئی کاغذ بھیجنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے وہ عالم الغیب تو ہوتا نہیں اور سمجھا بھی وہی سکتا ہے جس کے ہاتھ سے کاغذ نکلا ہو اور اس پر کسی کلرک کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔میرے پاس جو معاملہ آیا تھا اور میں نے ہی فیصلہ کیا تھا کہ اگر ناظر ضروری سمجھتا تھا تو کلرک کو ضرور جانا چاہئے تھا۔ایسی باتوں کو ہتک سمجھنے والے کے لئے دفتر میں کام کرنے کی ضرورت نہیں۔اسے چاہئے کہ