خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 164

1941 165 خطبات محمود آبادی وسیع ہو گئی ہے اور حالت بدل گئی ہے مگر جب یہاں احمدی تھوڑے تھے مجھے یاد ہے کوئی شادی بیاہ ہو یا اور کوئی تقریب ہو۔بھائی جی وہاں خدمت کے لئے موجود ہوتے اور دوست بھی ان سے کہتے کہ بھائی جی! یہ کام کر دیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں متواضع صرف وہی تھے باقی سب متکبر تھے بلکہ ان میں خدمت کرنے کی خواہش اور شوق تھا اور وہ اسے حقیقی بھائی ہونے کی علامت سمجھتے اور لوگ بھی اپنے کام کے لئے یا ان کے دلی شوق کو دیکھتے ہوئے ان سے دیتے۔سالہا سال تک یہی حالت رہی کہ کوئی مجلس ہو یا کوئی دعوت ہو بھائی جی وہاں کھڑے کام کر رہے ہیں۔ان کی طبیعت کا میلان اسی طرف ہے کہ وہ خدمت کے رنگ میں دوستوں سے سلوک کرنا چاہتے ہیں اور لوگ بھی ان کے جوش یا اپنے کام کے لئے ان کو کہہ دیتے تھے۔میں مسجد میں بیٹھتا ہوں تو بیسیوں لوگ دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو اس سے روکا جائے تو وہ تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ایسے لوگ خدمت کرنے کو تکلیف اور ہتک نہیں سمجھتے بلکہ اگر ان کو اس سے روکا جائے تو ہتک سمجھتے اور تکلیف محسوس کرتے ہیں۔آجکل تو میں نے دعوتیں بند کی ہوئی ہیں۔مگر پھر بھی بعض لوگ خط لکھتے رہتے ہیں اور پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ ضرور منظور کریں۔اور میں کہتا ہوں کہ اگر ایک کی منظور کروں تو دوسرے کو کیا جواب دوں۔دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو اسے کہوں کہ فلاں شخص اخلاص میں بہت بڑھا ہوا تھا اس لئے اس کی دعوت منظور کر لی اور یا یہ کہ وہ منافق تھا اس لئے منظور کر لی کہ اسے ابتلاء نہ آئے۔اور دونوں صورتیں دونوں میں سے ایک کے لئے تکلیف دہ ہیں۔اس لئے میں نے یہ سلسلہ ہی بند کیا ہوا ہے سوائے اس کے کہ کوئی میرا جسمانی رشتہ دار بھی ہو۔بعض لوگ اس پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں کہ آپ فلاں رشتہ دار کے ہاں گئے تھے۔ان کو معلوم نہیں کہ رشتہ داروں کے بھی اللہ تعالیٰ نے حقوق رکھے ہیں اور روحانی و جسمانی دونوں رشتے جہاں ہوں وہاں رشتہ داری کے لحاظ سے بعض حقوق بھی ادا کرنے ضروری ہیں اور ان پر اعتراض کرنا