خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 163

1941 164 خطبات محمود کہہ دیتا ہے مجھے مالش کر دو۔اس طرح لوگ ہر روز ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں مگر اس میں نہ کوئی ناجائز دباؤ ہے نہ تکبر ہے اور نہ حکومت کے رعب کی کوئی بات ہے۔کسی ناظر کا دوست ہو، واقف ہو یا اس سے اور کوئی لین دین کا تعلق ہو اسے اگر اس نے کہہ دیا کہ ذرا میرے پیر دبا دو تو یہ کوئی شکایت کی بات نہیں۔اس شخص نے اس ناظر کا بھی ایک ہی ایسا واقعہ لکھا ہے۔گویا ساری عمر میں اس نے ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی شخص سے ایسا کہا اور یہ بات بھی دو سال کی ہے۔اسے شکایت کا رنگ دینا ایسی بات ہے جو میری سمجھ میں نہیں آ سکی۔اگر یہ تکبر ہے تو اس سے کوئی بھی خالی نہیں شاید ہزار میں سے ایک ہو جو کبھی بھی اپنے دوستوں یا واقفوں سے ایسی خدمت نہ لیتا ہو۔طبیعت خراب ہو تو بیویاں خاوندوں کو دباتی ہیں اور خاوند بیویوں کو۔سینکڑوں مرتبہ میری بیوی نے مجھے دبایا ہو گا اور بیسیوں مرتبہ میں نے ان کو دبایا ہو گا۔دوست دوستوں سے سلوک کرتے ہیں اور اگر یہ سلوک نہ رہے تو انسان انسان نہیں بلکہ وحشی بن جائے۔انسانوں کے انسانوں سے تعلقات ہوتے ہیں۔کیا ایسا ہونا چاہئے کہ جو ناظر بن جائے وہ ہر ایک کو گتے کی طرح بھونکتا پھرے۔ہم اسے تکبر سے تو روک سکتے ہیں مگر انسانیت سے خارج نہیں کر سکتے۔وہ بھی اسی طرح کا انسان ہے جیسے دوسرے اور اسے بھی اپنے دوستوں سے خدمت لینے ، فائدہ اٹھانے یا فائدہ پہنچانے کا اسی طرح حق ہے جیسے دوسرے انسانوں کو۔اس میں نہ کوئی تذلیل ہے نہ تحقیر۔ساری دنیا میں یہ کام ہو رہا ہے۔بچہ ماں باپ سے ماں باپ بچوں سے، دوست دوستوں سے چھوٹے بھی اور بڑے بھی اس قسم کے سلوک ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں بلکہ بعض لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے اگر خدمت نہ لی جائے تو وہ ہتک اور تکلیف محسوس کرتے ہیں۔یہاں بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی ہیں میں جب سے ان کو جانتا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ ان کو دوستوں کی خدمت کا شوق اور جوش ہے۔اب تو یہاں کی