خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 162

1941 163 خطبات محمود اور تعلق دوسروں کے ساتھ بھی نہیں مگر بعض باتیں ایسی ہیں کہ ممکن ہے بعض لوگوں کے دلوں میں بھی ویسے خیالات ہوں۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ خطبہ میں ان کے متعلق بعض باتیں بیان کر دوں۔ایک شکایت یہ ہے کہ ایک ناظر نے مسجد میں فلاں آدمی سے کہا کہ میرے پیر دبا دو۔اگر تو یہ شکایت ہوتی کہ ناظر جہاں بیٹھتے ہیں لوگوں کو اکٹھا کر لیتے ہیں کہ آؤ ہمارے پیر دباؤ تو یقینا یہ قابل اعتراض بات تھی اور میرے لئے اس کے تدارک کا فکر کرنا لازمی ہوتا لیکن کسی ایک ناظر کا ایک مرتبہ کسی خاص شخص۔ایسا کہنا ایک ایسی بات ہے کہ میری سمجھ میں نہیں آ سکتا کہ اس میں شکایت کی کیا بات ہے۔دبوانے کا رواج ہمارے ملک میں عام ہے۔بیمار بھی دبواتے ہیں، دوستوں کو دوست اپنی خوشی سے بھی دباتے ہیں۔ہم نے سینکڑوں کو ایک دوسرے کو دباتے دیکھا ہے۔جو شکایت کی گئی ہے ممکن ہے جس نے کہا ہو وہ ناظر کا دوست ہی ہو یا اس کے ساتھ اور کسی رنگ میں ایسے تعلقات ہوں کہ دبانے کو کہہ دیا۔ناظر قطع نظر اس سے کہ وہ ناظر ہے انسان بھی ہے اور ہر انسان کے دوست ہوتے ہیں۔دوست دوستوں کو دباتے بھی ہیں، ملنے والے بھی دبا دیتے ہیں۔ایک آدمی کمزور ہوتا ہے تو بعض دفعہ دوسرے سے کہہ دیتا ہے کہ مجھے ذرا دبا دو۔ہم نے تو بیسیوں دفعہ دیکھا ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہہ دیتا ہے کہ میری کمر میں درد ہے ذرا دبا دو۔اس میں تکبر ، حکومت کا رعب، ناجائز دباؤ یا نظارت کا کوئی تعلق نہیں اور اس میں شکایت کا کوئی پہلو میں نہیں سمجھ سکا۔ہاں اگر تو وہ ناظر یا دوسرے ناظر جہاں بیٹھیں لوگوں کو بلائیں کہ آکر ہمیں دباؤ تو شکایت کی بات ہے۔یا ایسے لوگوں سے دبوائیں جن سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو صرف ناظر ہونے کی وجہ سے وہ احمدیوں کو دبوانے کو کہیں تب بھی ان کا یہ رویہ قابل اعتراض کہلا جو بات عام انسان کرتے ہیں ویسے ہی حالات میں وہ بات ایک ناظر کے متعلق شکایت کیونکر بن سکتی ہے۔ایک زمیندار ڈنٹر پیلتا ہے تو کسی دوست سے سکتا ہے۔مگر